الخميس، 01 صَفر 1448| 2026/07/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

متفرقات الرایہ – شمارہ 607

 

صفحہ اول کی سرخی

 

اے امتِ مسلمہ! کیا ایک ایسی عظیم امت جس کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے عظیم ترین عقیدے سے نوازا اور بے پناہ قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی (اسٹریٹجک) مقامات عطا کیے، اسے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قوموں کی فہرست میں سب سے پیچھے ہو؟! کیا ان خصوصیات کی حامل امت کے لیے یہ زیادہ موزوں نہیں کہ وہ دنیا کی بلا منازع پہلی ریاست ہو؟!﴿لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ "بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر  ہے، تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" (سورۃ الانبیاء:آیت 10)

 

===

صفحہ اول کے لیے

 

سائیکس پیکو کی کھینچی گئی سرحدوں پر خونریزی

منگل 16 جون 2026 کو سوڈان اور مصر کے درمیان استعماری سرحدوں پر افسوسناک واقعات پیش آئے۔ مصری فضائیہ نے جبل الاحمر اور جبل عیقاد کے علاقوں میں سونے کی تلاش میں مصروف کان کنوں پر بمباری کی۔ میڈیا ذرائع نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبر دی، تاہم سرکاری تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے خبریں متضاد رہیں۔ اس واقعے پر سوڈانی اور مصری دونوں حکومتوں نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔

 

سوائے سوڈانی خودمختار کونسل کے سربراہ کے سیاسی امور و خارجہ تعلقات کے مشیر امجد فرید کے، جنہوں نے جمعرات 18 جون 2026 کو 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا: "گزشتہ منگل کو سرحد کے قریب مصری افواج کی جانب سے سوڈانی کان کنوں کو نشانہ بنانا اور جانی نقصان ہونا... ایک ایسا واقعہ ہے جو دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا متقاضی ہے"۔

 

اس واقعے کے ایک ہفتے بعد مصری فوج نے اپنے اس گھناؤنے فعل کا اعتراف کر لیا۔ پیر 22 جون 2026 کو مصری فوج کے ترجمان نے بیان دیا کہ: "مصری فوج اور وزارتِ داخلہ نے جنوبی علاقے میں ان مجرمانہ ٹھکانوں کے خلاف بڑی مہم چلائی جو منشیات، اسلحہ کی اسمگلنگ، سونے کی غیر قانونی تلاش اور غیر قانونی ہجرت میں ملوث تھے!" بیان میں ہلاکتوں یا زخمیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ان لوگوں کی گرفتاری کا بتایا گیا جنہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

 

حزب التحریر ولایہ سوڈان کے سرکاری ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک پریس ریلیز میں کہا: "ہم حزب التحریر ولایہ سوڈان میں دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اور بے گناہ مقتولین و زخمیوں کا خون ان کے سر ہے۔" ہم درج ذیل نکات پر زور دیتے ہیں: اول: بے گناہ کان کنوں کے ساتھ اس قدر سختی برتنا، چاہے ان میں مجرم ہی کیوں نہ ہوں، ایسا عمل ہے جسے شریعت تسلیم نہیں کرتی۔ اگر اصل مقصد یہی تھا تو مجرموں کی گرفتاری کے لیے تادیبی کارروائی کی جا سکتی تھی۔ جہاں تک طیاروں کے ذریعے لوگوں کے اجتماعی قتل عام کا تعلق ہے، تو یہ ایک وحشیانہ فعل ہے جو اسلام کے منافی ہے۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

 

﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً

"اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضبناک ہوا، اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔" (سورۃ النساء: آیت 93)

 

دوم: ان کٹھ پتلی حکومتوں کا کافر استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدوں کی پہرے داری کرنا، اور ان طیاروں اور بھاری اسلحے کا استعمال کرنا جن کا رخ دشمنوں کے بجائے امت کے بیٹوں کے سینوں کی جانب ہے، امت پر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ ان حکومتوں کو مسترد کر کے نظامِ خلافت قائم کرے جو ان سرحدوں کو مٹا دے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوڈان اور مصر ایک ہی ملک تھے جسے انگریز استعمار نے تقسیم کیا اور ان سرحدوں کی حفاظت کے لیے یہ کٹھ پتلی نظام مسلط کیے۔

سوم: سوڈانی حکومت کو بھی ایک ہفتے بعد یاد آیا کہ اس کے شہریوں کے ساتھ ایک بڑا حادثہ ہوا ہے، اور اب وہ اس کی تحقیقات کی بات کر رہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ تحقیقات کس سے کی جائیں گی؟ کیا مجرم مصری فوج سے یا مظلوموں سے؟! استاد ابو خلیل نے پریس ریلیز کے اختتام پر زور دیا کہ: "امت ان المیوں سے اس وقت تک نجات نہیں پا سکتی جب تک استعمار کی پیدا کردہ اس تلخ حقیقت کو بدلنے اور امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو یکجا کرنے والا نظام قائم کرنے کے لیے سنجیدہ جدوجہد نہ کی جائے۔ یہی وہ اسلامی نظام ہے؛ یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ، جس کے ذریعے ہم اپنے رب کو راضی کریں گے اور اس کے سائے میں عزت و وقار کی زندگی بسر کریں گے۔

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے پکارنے پر حاضر ہو جاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔" (سورۃ الانفال:آیت 24)

 

===

مرکزی مضمون کے تحت

 

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے قبل کرغیز حکومت کا  حزب التحریر کے شباب پر ظلم و ستم

رواں برس 31 اگست کو کرغیز دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کے سربراہان کا 25 واں اجلاس شروع ہوگا، جس کا قیام دہشت گردی، انتہا پسندی، علیحدگی پسندی اور منشیات کی تجارت کے خلاف جنگ کے نام نہاد دعوے کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔ اپنی بنیاد رکھے جانے کے ابتدائی برسوں سے ہی اس تنظیم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ جبکہ علیحدگی پسندی کی روک تھام کے بہانے چین میں ایغور اور دیگر مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

حقائق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کرغز حکام نے، آئندہ ہونے والی سمٹ کے میزبان ملک کی حیثیت سے، اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا آغاز وقت سے پہلے ہی کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے دعوتِ دین کا کام کرنے والوں  کی گرفتاریوں، چھاپہ مار مہمات اور سیکیورٹی کے نام پر طاقت کے مظاہروں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ چنانچہ سرکاری سطح پر 'اوش' اور 'باتکین' کے علاقوں میں ایک خصوصی آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے دوران دہشت گردی کے الزام میں 31 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

 

اسی طرح بشکیک شہر میں حاملینِ دعوت اور ہماری مسلمان بہنوں کے گھروں پر من مانی تلاشی کی کارروائیاں کی گئیں۔ لینن ڈسٹرکٹ ڈائریکٹوریٹ کے اہلکاروں نے کھڑکی توڑ کر ایک داعی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ گھر کے مالک کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ انتہائی بدتمیزی اور ظلم کرتے ہوئے تلاشی لی گئی۔ جب گھر سے کچھ نہ ملا تو انہوں نے اس کی 16 سالہ بیٹی کی ٹانگ پر ٹھوکر ماری، بازو مروڑا اور دیوار کی طرف اس قدر زور سے دھکا دیا کہ اسے برین ہیمرج (ارتجاجِ دماغ) کا خطرہ لاحق ہو گیا۔

 

مزید برآں، دعوت کا کام کرنے والے متعدد نوجوانوں کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا، اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے کچھ کے خلاف "انتہا پسندی" کے الزام میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ جیسا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے کی جانے والی ان من مانی اور حد سے بڑھی ہوئی تلاشیوں سے ظاہر ہوتا ہے، ان اقدامات کا مقصد شنغہائی تعاون تنظیم کی سمٹ سے پہلے روسی اور چینی قیادتوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔

 

مزید برآں، اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات ملک کی داخلی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیگر بہت سے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا ایک ذریعہ ہیں۔

 

===

 

حزب التحریر ولایہ سوڈان کے وفد کی قبائلِ امرأر کی قیادت سے ملاقات

حزب التحریر ولایہ سوڈان کے ایک وفد نے بدھ 16 محرم 1448ھ بمطابق 1 جولائی 2026 کو پورٹ سوڈان میں پارٹی دفتر میں قبائلِ امرأر کے معززین کا استقبال کیا۔ وفد کی قیادت مرکزی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین استاد ناصر رضا کر رہے تھے، جن کے ہمراہ ولایہ سوڈان کے سرکاری ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) اور کمیٹی کے رکن استاد عبداللہ اسماعیل موجود تھے۔ امرأر وفد میں درج ذیل شخصیات شامل تھیں:

 

1- قیادت کے ثقافتی سکریٹری اور میئر یحییٰ محمد ہمد

2- ناظر کے دفتر کے مینیجر جعفر محمد الامین

3- ناظر کے دفتر کے رہنما محمد طاہر

4- میئر اور ناظر کے دفتر کے رہنما الطاہر حسن نابوس

5- میئر اور شادین اکیڈمی آرگنائزیشن کے صدر بولیس محمد علی

 

تعارف کے بعد، استاد ناصر رضا نے وفد کی تشریف آوری اور دعوت قبول کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سیاسی صورتحال پر پارٹی کا وژن پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحیثیت مسلمان تمام مسائل کے حل اسلام سے ہی اخذ ہونے چاہئیں۔ اس کے بعد پیش کردہ نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

 

===

 

مسلح تنازعات اور انسانی بحرانوں کا شکار بچے

بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، سال 2025 میں مسلح تنازعات کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کی شرح گزشتہ تیس سالوں میں بلند ترین رہی، جس میں بچوں کے خلاف 38,558 سنگین خلاف ورزیوں کا اندراج کیا گیا۔ ان خلاف ورزیوں کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 24,174 تھی، جن میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ان مظالم میں قتل، معذوری، جنسی تشدد، جبری بھرتی، اغوا، انسانی امداد کی بندش اور اسکولوں و ہسپتالوں پر حملے شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ خلاف ورزیاں زیادہ تر فلسطین، صومالیہ، نائجیریا، جمہوریہ کانگو اور میانمار میں ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کی ہولناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کے تحفظ و بنیادی حقوق کے احترام کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

 

الرایہ: آج دنیا بھر کے بچوں کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ بین الاقوامی نظام کی کوئی عارضی خرابی نہیں، بلکہ یہ سیاسی غلبہ، معاشی استحصال اور اقوام کو بڑی طاقتوں کے مفادات کے تابع کرنے والے عالمی ڈھانچے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے آغاز سے ہی استعمار، قبضے، جنگوں اور وسائل کی لوٹ مار کے طریقے پیدا کیے، اور پھر منافقانہ طور پر خود کو انسانیت کا محافظ اور انسانی حقوق کا علمبردار بنا کر پیش کیا!! بچوں کی نجات اس سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے ممکن نہیں جس نے خود اس المیے کو جنم دیا ہے، بلکہ یہ اس حقیقی عدل کے قیام سے ہی ممکن ہے جو انسان کو محض انسان ہونے کی بنیاد پر عزت اور حقوق فراہم کرے۔ وہ راستہ جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے پسند کیا ہے، وہی غلبہ و استحصال کی منطق سے ہٹ کر عدل، رحمت اور حقوق کی ضمانت بر مبنی نظام قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بچے بین الاقوامی رپورٹس کے اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانیت کا اٹوٹ انگ ہیں، اور ان کے مستقبل کی بہتری اس تباہ کن صورتحال کی تبدیلی اور ایک ایسے عادلانہ نظام سے جڑی ہے جو سب کے وقار کا تحفظ کرے۔ یہی اسلام کا نظام ہے جسے اللہ نے ہمارے لیے پسند فرمایا تاکہ ہم اطمینان پائیں اور دنیا و آخرت میں کامیاب رہیں۔

 

===

 

مغربی نظام سے ناتا توڑنا ممکن ہے

ایرانی جوہری فائل کی اصل الجھن اب تکنیکی نہیں رہی۔ دہائیوں کی سرمایہ کاری، ترقی، پابندیوں اور دباؤ کے بعد اب بحث سیاسی ارادے اور تزویراتی حساب کتاب کے گرد گھوم رہی ہے۔ چنانچہ اصل سوال اب یہ نہیں کہ کیا ایران جوہری صلاحیت حاصل کر سکتا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے پاس وہ سیاسی ارادہ موجود ہے جو اسے 'جوہری دہلیز' پر کھڑی ریاست سے ایک 'اعلانیہ جوہری طاقت' بنانے والی لکیر پار کرا سکے؟ بالآخر، ایرانی جوہری فائل اکیسویں صدی کے ان معاملات میں سے ایک ہے جو قانون، طاقت اور خودمختاری کے باہمی ٹکراؤ یا آج کی دنیا پر حکمرانی کرنے والے "جنگل کے قانون" کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ بین الاقوامی نظام صرف تحریری معاہدوں کے مطابق نہیں، بلکہ طاقت کے توازن اور بدلتے ہوئے مفادات کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ سوال اس وقت تک قائم رہے گا جب تک ایران اپنی جدید جوہری صلاحیتیں برقرار رکھے گا: کیا صورتحال صرف امکانی دفاع تک محدود رہے گی، یا دنیا کسی دن ایک نئی 'ڈی فیکٹو' جوہری طاقت کا ظہور دیکھے گی؟ ایرانی تجربے کا سبق یہی ہے کہ مغربی نظام سے علیحدگی ممکن ہے۔

 

===

 

کیا عالمی توانائی مارکیٹ کی تشکیلِ نو ہو رہی ہے؟

موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ دنیا ایک ایسے عبوری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے رائج معاشی نظام کے اثرات مٹ رہے ہیں۔ عالمگیریت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، تحفظ پسندانہ معاشی پالیسیاں واپس آ رہی ہیں اور تزویراتی وسائل کے لیے مقابلہ تیز ہو چکا ہے، جبکہ بڑی طاقتیں سپلائی چینز کی دوبارہ تعمیر اور اپنے جغرافیائی سیاسی حریفوں پر انحصار کم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس تناظر میں، توانائی کی منڈیاں ایک غیر مستحکم مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہیں، جہاں معاشی مفادات اور فوجی حساب کتاب ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

 

عالمی منڈیِ تیل کے مستقبل کا فیصلہ صرف اوپیک کے فیصلوں یا پیداوار کے حجم سے نہیں ہوگا، بلکہ یہ ان مجموعی تبدیلیوں کا مرہونِ منت ہوگا جن سے بین الاقوامی نظام گزر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات، اوپیک کا مستقبل، تحفظ پسندانہ رجحانات اور عالمی قرضوں کا بوجھ، یہ تمام عناصر مل کر آنے والے دور کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی معیشت توانائی کے کسی نئے جھٹکے کو برداشت کر سکے گی، خاص طور پر جب اسے معاشی سست روی اور جغرافیائی سیاسی اضطراب کا سامنا ہو؟ یہی وہ حقیقی چیلنج ہے جو آنے والے برسوں میں دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔

 

===

 

آج ضرورت نئی شریعت کی نہیں بلکہ اسے بہتر سمجھنے والوں کی ہے

شریعتِ اسلامیہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا، اور اس میں وہ اصول و مقاصد رکھے جو زندگی کے تمام معاملات کو بہترین طریقے سے چلانے کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ شریعت صرف مسلمانوں کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اصول تمام لوگوں کے لیے عدل، رحمت اور مصلحت کے ضامن ہیں، بشرطیکہ اسے درست طریقے سے سمجھ کر نافذ کیا جائے۔ اللہ نے اس شریعت کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، اسی لیے اس کے نصوص اور اصول اٹل ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ اہل علم کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اس کی طرف رجوع کریں، اس کا فہمِ راسخ حاصل کریں، اس سے احکام اخذ کریں اور انہیں دورِ حاضر کے حقائق پر اس طرح لاگو کریں جو اس کے مقاصد اور دلائل کے عین موافق ہوں۔

 

لہٰذا آج ضرورت کسی نئی شریعت کی نہیں بلکہ ان لوگوں کی ہے جو اللہ کی شریعت کو صحیح معنوں میں سمجھیں، اس کی وضاحت میں اجتہاد کریں اور اسے علم، حکمت و انصاف کے ساتھ نافذ کرنے کی جدوجہد کریں، تاکہ یہ انسان اور معاشرے کی اصلاح میں بارآور ثابت ہو اور اللہ کے حکم سے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنے۔ شریعتِ اسلام کو سمجھنا اور اسے نافذ کرنا کسی طویل وقت کا محتاج نہیں بلکہ صرف اس کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ جب لوگ اس کی طرف رجوع کریں گے تو وہ اسے بہت جلد سمجھ لیں گے اور اس کا نفاذ ان کے لیے دشواری کے بجائے انتہائی آسان اور تیز رفتار ثابت ہو گا۔

 

===

 

 

 

 

Last modified onبدھ, 15 جولائی 2026 17:10

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک