بسم الله الرحمن الرحيم
قرآن کریم کے ساتھ
انسان کی فطرت
الوعي میگزین – شمارہ نمبر 466
انتالیسواں سال، ذو القعدہ 1446 ہجری،
بمطابق مئی 2025 عیسوی
تحریر : خليفة محمد- الأردن
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے،
﴿زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ مِنَ النِّساءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَناطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعامِ وَالْحَرْثِ ذلِكَ مَتاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ(14) قُلْ أَأُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذلِكُمْ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدِينَ فِيها وَأَزْواجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبادِ﴾
”لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو خوشنما بنا دیا گیا ہے، (جیسے) عورتیں، بیٹے، سونے اور چاندی کے ڈھیر لگے خزانے، نشان لگائے گئے گھوڑے، مویشی اور کھیتی باڑی کو (ان کے لئے آراستہ کیا گیا ہے)۔ یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے۔ (14) آپ کہہ دیجیے: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز کی خبر دوں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور اللہ کی خوشنودی ہوگی۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے‘‘ ]سورۃ آلِ عمران؛ 3: 14–15[
پہلی آیت ایک فعلِ ماضی سے شروع ہوتی ہے جو مجہول کے صیغے میں ہے، اور اس میں فاعل کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس فعل کا مصدر تزئین ہے، جس کا معنی کسی چیز کو خوبصورت یا دلکش بنانا ہے۔ یہ آرائش انسانی فطرت میں ودیعت ہے، یعنی نوعِ انسان کی اصل فطرت ہی ایسی ہے۔ انسان فطری طور پر ان خواہشات سے محبت کا میلان رکھتا ہے جن کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے، اور ان دیگر چیزوں سے بھی جن کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ حقیقت میں ان کی آرائش کرنے والا اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے، وہی جس نے انسان کو تخلیق کیا، اس کی ساخت کو متوازن بنایا، تقدیر مقرر کی اور اسے ہدایت عطا کی۔ اور "الشہوات"(خواہشات)، شہوت کی جمع ہے، جو صرفی اعتبار سے فعلة کے وزن پر ہے، اور اصل میں مرّة (بار بار ہونے والا عمل) کے معنی دیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مطلوب چیز کی طلب اور کشش بار بار انسان کے اندر پیدا ہوتی رہتی ہے۔
پہلی آیت میں نفسِ انسانی کو محبوب لگنے والی خواہشات کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جو نوعِ انسانی کے بقا سے متعلق ہے، اور وہ عورتیں اور اولاد ہیں۔ شیخ طاہر بن عاشور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وَبَيَانُ الشَّهَوَاتِ بِـ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَمَا بَعْدَهُمَا، بَيَانٌ بِأُصُولِ الشَّهَوَاتِ الْبَشَرِيَّةِ الَّتِي تَجْمَعُ مُشْتَهَيَاتٍ كَثِيرَةً، وَالَّتِي لَا تَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْأُمَمِ وَالْعُصُورِ وَالْأَقْطَارِ، فَالْمَيْلُ إِلَى النِّسَاءِ مَرْكُوزٌ فِي الطَّبْعِ، وَضَعَهُ اللهُ تَعَالَى لِحِكْمَةِ بَقَاءِ النَّوْعِ بِدَاعِي طَلَبِ التَّنَاسُلِ إِذِ الْمَرْأَةُ هِيَ مَوْضِعُ التَّنَاسُلِ، فَجُعِلَ مَيْلُ الرَّجُلِ إِلَيْهَا فِي الطَّبْعِ حَتَّى لَا يَحْتَاجَ بَقَاءُ النَّوْعِ إِلَى تَكَلُّفٍ رُبَّمَا تَعْقُبُهُ سَآمَةٌ." ”خواہشات کو عورتوں، بیٹوں اور ان کے بعد آنے والی چیزوں کے ذریعے بیان کرنا دراصل انسانی خواہشات کے بنیادی عناصر کو بیان کرنا ہے، جن کے تحت بے شمار مرغوبات شامل ہو جاتی ہیں، اور جو اقوام، زمانوں اور خطوں کے مختلف ہونے سے مختلف نہیں ہو جاتیں۔ عورتوں کی طرف میلان انسانی فطرت میں راسخ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی کی بقا کی حکمت کے تحت رکھا ہے، کیونکہ عورت ہی تولید و تناسل کا مقام ہے۔ اسی لئےمرد کا اس کی طرف طبعی میلان رکھا گیا ہے، تاکہ نسل کی بقا کسی مصنوعی کوشش کی محتاج نہ ہو، ایسی کوشش جس کے بعد بیزاری اور اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے‘‘۔
شیخ طاہر بن عاشور رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: "وَمَحَبَّةُ الْأَبْنَاءِ أَيْضًا فِي الطَّبْعِ: إِذْ جَعَلَ اللهُ فِي الْوَالِدَيْنِ، مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، شُعُورًا وِجْدَانِيًّا يُشْعِرُ بِأَنَّ الْوَلَدَ قِطْعَةٌ مِنْهُمَا، لِيَكُونَ ذَلِكَ مَدْعَاةً إِلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْوَلَدِ الَّذِي هُوَ الْجِيلُ الْمُسْتَقْبَلُ، وَبِبَقَائِهِ بَقَاءُ النَّوْعِ، فَهَذَا بَقَاءُ النَّوْعِ بِحِفْظِهِ مِنَ الِاضْمِحْلَالِ الْمَكْتُوبِ عَلَيْهِ، وَفِي الْوَلَدِ أَيْضًا حِفْظٌ لِلنَّوْعِ مِنَ الِاضْمِحْلَالِ الْعَارِضِ بِالِاعْتِدَاءِ عَلَى الضَّعِيفِ مِنَ النَّوْعِ لِأَنَّ الْإِنْسَانَ يَعْرِضُ لَهُ الضَّعْفُ، بَعْدَ الْقُوَّةِ، فَيَكُونُ وَلَدُهُ دافعا عَنهُ عداء مَنْ يَعْتَدِي عَلَيْهِ، فَكَمَا دَفَعَ الْوَالِدُ عَنِ ابْنِهِ فِي حَالِ ضَعْفِهِ، يَدْفَعُ الْوَلَدُ عَنِ الْوَالِدِ فِي حَالِ ضَعْفِهِ". ”اولاد کی محبت بھی فطری ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ماں باپ یعنی مرد اور عورت دونوں کے دل میں ایک وجدانی اور جذباتی احساس رکھ دیا ہے، جو انہیں یہ محسوس کراتا ہے کہ اولاد ان ہی کا ایک حصہ ہے۔ تاکہ یہی احساس اس بات کا سبب بنے کہ وہ اس اولاد کی حفاظت کریں جو آنے والی نسل ہے، اور جس کے باقی رہنے سے ان کی نسل باقی رہے گی۔ یہ نوعِ انسانی کا بقا اس طرح ہے کہ اسے اُس معدومیت سے محفوظ رکھا جائے جو اس کے مقدر میں لکھا گیا ہے۔ اور اولاد کے ذریعے نوعِ انسانی کو اُس عارضی خاتمہ سے بھی بچایا جاتا ہے جو کمزور نسل پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں پیش آتی ہے، کیونکہ انسان طاقت کے بعد کمزوری سے دوچار ہوتا ہے۔ پس اس کا بیٹا اس پر حملہ کرنے والوں کی دشمنی کو اس سے دور کرتا ہے۔ جس طرح باپ اپنے بیٹے کا اس وقت دفاع کرتا ہے جب وہ کمزور تھا ، اسی طرح بیٹا اپنے باپ کا دفاع کرتا ہے جب وہ کمزور ہو جاتا ہے‘‘۔
نوعِ انسان کو محبوب لگنے والی یہ دوسری قسم انسان کی اپنی بقا سے متعلق ہے، اور یہ سونے اور چاندی کے ڈھیر (قناطیر)، پلے ہوئے گھوڑوں، مویشیوں اور کھیتی سے محبت یعنی مال و دولت کی ملکیت کے شوق کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ "قناطیر"، "قنطار" کی جمع ہے، اور یہ ایک معرّبة (عربی سے ماخوذ) لفظ ہے جس کے معنی سو رطل وزن کے ہیں۔ "مقنطرۃ" سے مراد کئی گنا بڑھائی ہوئی اور بہت زیادہ مقدار ہے۔ انسان کی فطرت میں طبعی میلان ہے کہ وہ سونے اور چاندی کی ملکیت سے محبت کرتا ہے، اور اس محبت کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس بات کی تائید رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے: «لو كان لابنِ آدَمَ واديانِ مِن ذهبٍ لابتغى إليهما الثَّالثَ ولا يملأُ جوفَ ابنِ آدَمَ إلَّا التُّرابُ» ”اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا، اور ابنِ آدم کا پیٹ (قبر کی ) مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی‘‘۔
جہاں تک پلے ہوئے نشان لگائے (المسوّمة) گھوڑوں کی بات ہے، تو ابنِ عاشورؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں: "والْمُسَوَّمَةِ الْأَظْهَرُ فِيهِ مَا قِيلَ: إنّه الراعية، فو مُشْتَقٌّ مِنَ السَّوْمِ وَهُوَ الرَّعْيُ، يُقَالُ: أَسَامَ الْمَاشِيَةَ إِذَا رَعَى بِهَا فِي الْمَرْعَى، فَتَكُونُ مَادَّةُ فَعَّلَ لِلتَّكْثِيرِ أَيِ الَّتِي تُتْرَكُ فِي الْمَرَاعِي مُدَدًا طَوِيلَةً وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ لِسَعَةِ أَصْحَابِهَا وَكَثْرَةِ مَرَاعِيهِمْ، فَتَكُونُ خَيْلُهُمْ مُكَرَّمَةً فِي الْمُرُوجِ وَالرِّيَاضِ"، والأنعامُ زينةٌ لأهل الوبر، وفيها منافع كثيرة، ذُكِرَ بعضٌ منها في القرآن الكريم. ”نشان لگائے (المسوّمة) گھوڑوں کے بارے میں سب سے واضح بات جو کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے مراد چرنے والے پلے ہوئے گھوڑے ہیں۔ یہ لفظسَوم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی چرنے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے: "أسام الماشية" یعنی ”اس نے مویشیوں کو چراگاہ میں چرایا‘‘۔ پس فعّل کے صیغے میں یہ مادہ کثرت کے معنی دیتا ہے، یعنی وہ گھوڑے جو طویل مدت تک چراگاہوں میں چھوڑے جاتے ہیں۔ ایسا صرف ان کے مالکان کی خوش حالی اور ان کی چراگاہوں کی فراوانی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کے گھوڑے میدانوں اور باغوں میں چرنے پھرنے کا اعزاز پاتے ہیں۔ اور مال مویشی اہل الوبر (دیہاتی لوگوں) کے لئے زینت ہوتے ہیں، اور ان میں بہت سے فائدے ہیں، جن میں سے بعض کا ذکر قرآنِ کریم میں کیا گیا ہے۔ پھر وہ مزید کہتے ہیں: "أما الحرثُ فأَصْلُهُ مَصْدَرُ حَرَثَ الْأَرْضَ إِذَا شَقَّهَا بِآلَةٍ لِيَزْرَعَ فِيهَا أَوْ يَغْرِسَ، وَأُطْلِقَ هَذَا الْمَصْدَرُ عَلَى الْمَحْرُوثِ فَصَارَ يُطْلَقُ عَلَى الْجَنَّاتِ وَالْحَوَائِطِ وَحُقُولِ الزَّرْعِ." ”جہاں تک کھیتی باڑی (حرث) کی بات ہے، تو اس کی اصل حرث الأرض کا مصدر ہے، یعنی زمین کو کسی مشین کے ذریعے چیرنا تاکہ اس میں بیج بویا جائے یا پودا لگایا جائے۔ پھر یہی مصدر مجازاً کھیتی کی ہوئی زمین کے لئے استعمال ہونے لگا، یہاں تک کہ اس سے باغات، احاطہ دار زمینیں اور فصلوں کے کھیت مراد لئے جانے لگے‘‘۔
اور اس آیتِ کریمہ میں ان تمام مزین چیزوں کو دنیاوی زندگی کا سامان (متاع) قرار دیا گیا ہے۔ متاع کی یہ تعبیر نہایت دقیق اور حقیقت کے عین مطابق ہے، کیونکہ متاع وہ چیز ہوتی ہے جس سے کچھ عرصے کے لئے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، پھر وہ ختم ہو جاتی ہے اور باقی نہیں رہتی۔ باقی رہنے والی چیز وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جیسا کہ اسی آیت کے آخر میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے:
﴿وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ﴾
”اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے‘‘۔
دوسری آیت کا آغاز اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ کو یہ حکم دینے سے ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہہ دیں : ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز کی خبر نہ دوں؟‘‘ یہ ایک سوالیہ انداز ہے جس کا مقصد سامع کے دل میں تجسس اور انتظار پیدا کرنا ہے کہ اب کیا بات بیان ہونے والی ہے۔ پھر اس کے بعد آخرت میں متقیوں کے لئے ان کے رب کے پاس جو اجر ہے اسے بیان کیا گیا ہے، یعنی وہ باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اور ایسی بیویاں جو ہر عیب اور ہر اس چیز سے پاک ہوں گی جو نفس کو ناگوار گزرتی ہو، اور ان سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا حاصل ہو گی۔ وہ رضا جس سے دنیا میں اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے والوں کو محروم رکھا گیا تھا۔ دوسری آیت کا اختتام اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل کی حقیقت کے ذکر پر ہوتا ہے۔ وہی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا، وہ ان خواہشات کو خوب جانتا ہے جو اس نے خود ان کے اندر رکھی ہیں، اور وہ ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾
”کیا وہ ہی نہیں جانتا جس نے پیدا کیا؟ اور وہی باریک بین، خوب خبر رکھنے والا ہے‘‘۔ (سورۃ الملک: 14)
اس جملہ میں خبر (للذين اتّقوا) ”جو اللہ سے ڈرتے ہیں‘‘، یعنی وصف، مبتدأ ”باغات‘‘ سے پہلے آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر میں شامل وصف یعنی تقویٰ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور حدود کی پابندی کرتا ہے۔ یعنی وہ اپنی پسندیدہ خواہشات کو بھی اللہ کے احکام و نواہی کے مطابق پورا کرتا ہے۔ اس طرح اس کے مادی اعمال اللہ کی رضا کے حصول کے مطابق ہو جاتے ہیں، اور یوں مادہ اور روح کا امتزاج پیدا ہو جاتا ہے۔
تو درج بالا تمام بیان کے بعد یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ دونوں آیتیں انسان کی تین بنیادی فطری جبلتوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ان کی کچھ ظاہری شکلیں بیان کرتی ہیں: پہلی، جبلتِ نوع ہے جس کا ذکر پہلی آیت میں ہوا، اور اس کی دو ظاہری شکلیں بیان ہوئی ہیں؛ ایک عورت اور دوسری اولاد۔ دوسری جبلتِ بقاء ہے جس کا اظہار دولت اور ملکیت، عزت و حکمرانی، اور طاقت کے مظاہر میں ہوا، جیسے کہ گھوڑوں کی ملکیت ہونا۔ اور تیسری جبلتِ تديّن ہے، جس کا ایک مظہر خالقِ سبحانہ وتعالیٰ کی تعظیم و تقدیس ہے، کیونکہ بہترین ٹھکانا آخرت کی شکل میں اسی کے پاس ہے، اور دوسرا مظہر تقویٰ ہے، جو اعمال کی رہنمائی اور خواہشات کی تکمیل کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق انجام دینے میں ظاہر ہوتا ہے۔
اس تناظر میں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ جبلتیں، اپنی مختلف اور متنوع صورتوں کے ساتھ، انسان کی فطرت میں ودیعت ہیں، اور اس کی جسمانی ضروریات کے ساتھ مل کر انسان کے طرزِ عمل کے لئے محرکات فراہم کرتی ہیں، جن کے نتیجے میں اس کے اندر ان جبلتوں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اعمال انجام دینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ تاہم، تسکین و اطمینان (ان جبلتوں کا پورا ہونا) کو منظم کرنے والے تصورات نہایت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ انسان مختلف ذرائعِ تسکین میں سے انتخاب کرتا ہے، بعض کو ترجیح دیتا ہے اور بعض کو رد کر دیتا ہے، اور یہ سب اس کے اپنے تصورات، زندگی کے بارے میں اس کے نقطۂ نظر، اور اس دنیا میں اس کے حتمی مقصد اور مشن کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ان تمام امور کو ایک ہی اصطلاح میں سمیٹا جا سکتا ہے، اور وہ ہے تقویٰ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل خود تسکین واطمینان کے لئے کوئی مکمل نظام قائم کرنے سے قاصر ہے، اور نہ ہی وہ قانون سازی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کام صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اس پر فرائض عائد کیے، اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور قیامت کے دن اس سے ان ذمہ داریوں کے بارے میں حساب لے گا جو اس پر عائد کی گئی تھیں۔ جو شخص اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام اور دینِ اسلام سے نکلنے والے شرعی احکام کی پابندی کرتا ہے، وہ قیامت کے دن کے بعد جنت اور اس میں دائمی زندگی کا مستحق ہوگا۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نظام سے منہ موڑ لیتے ہیں، ان کا انجام اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو ان جانوروں سے تشبیہ دی ہے جن کا مقصد محض کھانا اور عارضی لذت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ﴾
”اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ (دنیا میں) عیش کرتے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں، اور آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے‘‘۔ (سورۃ محمد: 12)
اور آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں آیتیں نفسِ انسانی کے مطالعے کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ قرآنِ کریم کی وہ بے شمار آیات بھی شامل کی جائیں جو انسان کی فطرت سے متعلق ہیں، جو انسان کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں اور اس کی صحیح اور متوازن تعمیر کی رہنمائی کرتی ہیں، ایسی تعمیر جو دنیا میں سعادت اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ فلاح و کامیابی تک پہنچاتی ہے۔






