الجمعة، 03 رمضان 1447| 2026/02/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب

 

وہ احادیث جن میں رایہ عَلَم (جھنڈا) اور لواء کا ذکر آیا ہے!

 

(عربی سے ترجمہ)

 

سیکشن: اسلامی مفاہیم

 

سوال:

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ہمارے محترم شیخ آپ کیسے ہیں؟

 

مجھے آپ سے ایک سوال عرض کرنا ہے:

 

وہ احادیث کتنی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے عَلَم، رایہ کے بارے میں بیان ہوئی ہیں اور وہ کس حد تک مستند ہیں ؟

 

اور ازراہِ کرم اگر آپ دو روایتیں بیان کریں تو ان کی سند کے تسلسل کی روایت بھی ذکر فرما دیں۔

 

جواب:

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

لواء جھنڈا اور رایہ کے حوالے سے اور ان پر جو لکھا ہوتا تھا، اس کے بارے میں ہماری کتب میں، خصوصاً (کتاب الأجهزة، عربی کے صفحہ 200) میں درج ذیل بیان آیا ہے :

[ریاست کے لئے لواء کے جھنڈے اور رایات کے علم ہوتے ہیں، اور یہ استنباط اس پہلی اسلامی ریاست سے کیا گیا ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں قائم فرمایا تھا۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

 

1- لواء اور رایہ، لغوی اعتبار سے دونوں پر جھنڈے (علم) کا اطلاق ہوتا ہے۔ القاموس المحیط میں اصل (رَوِيَ) کے ذکر کے تحت آیا ہے: (... والراية العلم، جمع رأيات...) رایہ سے مراد جھنڈا ہے، اس کی جمع رأیات ہے اور اصل (لَوِيَ) کے ذکر میں ہے: (... واللواء بالمد العلم، ج ألوية...) لواء سے مراد جھنڈا ہے، اس کی جمع ألویة ہے۔

 

پھر شرع نے استعمال کے اعتبار سے ان دونوں کو درج ذیل شرعی معنی دیئے ہیں:

 

لواء (جھنڈا) سفید ہوتا ہے، اور اس پر سیاہ خط میں «لا إله إلا الله محمد رسول الله» لکھا ہوتا ہے، اور یہ لشکر کے امیر یا سپہ سالار کے لئے باندھا جاتا ہے۔ یہ اس امیر یا سپہ سالار کے مقام کی علامت ہوتا ہے اور وہ جہاں جاتا ہے یہ لواء بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ امیرِ لشکر کے لئے لواء باندھنے کی دلیل یہ ہے کہ «أن النبي ﷺ دخل مكة يوم الفتح ولواؤه أبيض» رسول اللہ ﷺ فتحِ مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کا لواء سفید رنگ کا تھا اسے ابن ماجہ نے جابرؓ سے روایت کیا ہے۔ اور النسائی میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «أنه ﷺ حين أمَّر أسامة بن زيد على الجيـش ليغزو الروم عقد لواءه بيده» جب آپ ﷺ نے اسامہ بن زیدؓ کو روم کی طرف لشکر کا امیر مقرر کیا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ان کے لئے لواء باندھا۔

 

رأیہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے، اور اس پر سفید خط میں «لا إله إلا الله محمد رسول الله» لکھا ہوتا ہے، اور یہ لشکر کے دستوں کے کمانڈروں (رجمنٹ، بریگیڈز اور دیگر فوجی یونٹوں کے سربراہان) کے پاس ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ، جب خیبر میں لشکر کے قائد تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لأعطين الراية غداً رجلاً يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، فأعطاها علياً» کل میں یہ رایہ ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں پھر آپ ﷺ نے وہ رایہ علیؓ کو عطا فرمایا۔

 

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اس وقت علیؓ لشکر کے ایک دستے یا یونٹ کے کمانڈر تھے۔ اسی طرح حارث بن حسان البکری سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: «قدمنا المدينة فإذا رسول الله ﷺ على المنبر، وبلال قائم بين يديه، متقلد السيف بين يدي الرسول ﷺ، وإذا رايات سود، فسألتُ: ما هذه الرايات؟ فقالوا: عمرو بن العاص قدم من غزاة» ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، بلالؓ آپ ﷺ کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے تھے، اور سیاہ رایات موجود تھے۔ میں نے پوچھا: یہ رایات کیا ہیں؟ لوگوں نے کہا: عمرو بن العاصؓ ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں“، پس «فإذا رايات سود» سیاہ رایات کا مطلب یہ ہے کہ لشکر کے ساتھ متعدد رایات تھے، جبکہ ان کا امیر ایک ہی تھا اور وہ عمرو بن العاصؓ تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رایات مختلف دستوں اور یونٹوں کے سربراہان کے پاس تھے........ ]۔ [اقتباس ختم]۔

 

2- مذکورہ بالا کے علاوہ ایک حدیث اور بھی ذکر کرتا ہوں جسے الطبرانی نے المعجم الأوسط (1/223) میں روایت کیا ہے:

 

[224- ہم سے احمد بن رشدین نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالغفار بن داؤد ابو صالح الحرانی نے بیان کیا، کہ انہوں نے کہا: ہم سے حیان بن عبید اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو مجلز لاحق بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: «كانت راية رسول الله ﷺ سوداء ولواؤه أبيض، مكتوب عليه: لا إله إلا الله محمد رسول الله» رسول اللہ ﷺ کا رأیہ سیاہ رنگ کا تھا اور آپ ﷺ کا لواء سفید تھا، اور اس پر لکھا تھا: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔ اس حدیث کو ابن عباسؓ سے اس سند کے علاوہ کسی اور سند سے روایت نہیں کیا گیا، اور اس میں حیان بن عبید اللہ منفرد ہیں۔ اور حیان کو ابن حبان نے الثقات (6/230) میں ذکر کیا ہے، اور ابو حاتم نے الجرح والتعدیل (3/246) میں ان کے بارے میں کہا ہے: (وهو صدوق)، یعنی وہ سچے ہیں]۔

 

بہرحال، لواء اور رایہ کا معاملہ مشہور اور معروف ہے، اور اسلام کے دور میں رایہ مسلمانوں پر سایہ فگن رہتا تھا، اس لئے اس میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔]

 

امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہو گی، اور اللہ ہی سب سے زیادہ علم رکھنے والا اور سب سے بڑھ کر حکمت والا ہے۔

 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

آپ کا بھائی

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

28 شعبان 1447ھ

بمطابق 16 فروری، 2026ء

#أمير_حزب_التحرير

Last modified onجمعرات, 19 فروری 2026 19:40

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک