راحیل-نواز حکومت امریکہ کی غلامی سے نکلنا ہی نہیں چاہتی امریکہ کی بھارتی حمایت کے باوجود راحیل-نواز حکومت امریکہ سے وفاداری نبھا رہی ہے
- Published in پاکستان
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- الموافق
23 جون 2016 کو پاکستان و افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ اولسن نے کہا کہ افغان امن مذاکرات میں بھارت اور ایران کو بھی اگلے مرحلے میں شامل کیا جائے گا۔ اس نے مزید کہا کہ، "پاکستان افغانستان میں مفاہمت اور بات چیت کے عمل سے اب بھی جڑا ہوا ہے"۔ 11/9 کے بعد مشرف کی جانب سے لیے جانے والے بدنام زمانہ یو ٹرن کا یہ جواز دیا گیا تھا کہ اگر پاکستان امریکہ کی حمایت نہ کرتا تو امریکہ افغانستان میں بھارت کو کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کردیتا۔ مشرف کےبعد کیانی-زرداری حکومت اور پھر راحیل-نواز حکومت نے بھی اسی منتر کو پڑھ پڑھ کر پاکستان کے دروازے، افغانستان ، پر اسلام اور پاکستان کے دشمن امریکہ کے قبضے کو مستحکم کرنے کے لئے پاکستان کے معاشی اور فوجی وسائل کو امریکہ کی جنگ میں جھونک دیا۔




