الخميس، 23 رمضان 1447| 2026/03/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ایران پر امریکہ اور یہودی وجود کی جنگ: عالمی تسلط کے زوال کے اسباق اور عبرتیں

 

 

تحریر: انجینئر علی عبد الرحمن

 

(ترجمہ)

 

 

اس جنگ کے اثرات پر بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان ممالک، ان کے مآخذ اور ان کی رہنمائی کرنے والے نظریات کا جائزہ لیا جائے جو اس جنگ میں شامل ہیں۔

 

ہم سرمایہ دارانہ نظریے کے بحران اور اخلاقی گراوٹ سے آغاز کرتے ہیں: سرمایہ دارانہ نظریہ حالیہ صدیوں میں اپنی تعلیمات سے روحانی پہلو کو خارج کر کے اور مذہب کو زندگی سے الگ کرنے کی بنیاد پر شروع ہوا۔ اس علیحدگی نے ایک ایسی مادی درندگی کو جنم دیا جس نے انسانیت کو پس پشت ڈال دیا، اور اپنے ماننے والوں کو اس پستی میں گرا دیا جو چوپایوں سے بھی بدتر ہے۔ شاید ایپسٹین اور اس جیسے دیگر اسکینڈلز اس تہذیب کی محض ایک ساختی بیماری کی علامت ہیں جو لذت اور مفاد کو ہی اپنا معبود مانتی ہے۔ مفاد پرستی کے اسی تنگ زاویے سے ہمیں آج مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی جنگوں کو سمجھنا چاہیے۔

 

اول: آپریشن طوفانِ اقصیٰ اور 'نیو مڈل ایسٹ' کی ناکامی

 

غالباً طوفانِ اقصیٰ نے ان ظالم حکومتوں کے ذریعے شروع کیے گئے تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کے گناہ آلود منصوبوں کا راستہ کسی حد تک روک دیا ہے۔ ٹرمپ اور ان کے دھڑے کی نمائندگی میں امریکی انتظامیہ کے تکبر کے سائے میں ایک ایسے 'نیو مڈل ایسٹ' کی تشکیل کی کوشش شروع ہوئی جس کا مقصد صرف سیاست سے مذہب کو نکالنا نہیں تھا، بلکہ 'ابراہیمی معاہدوں' کے ذریعے ہر حقیقی مذہبی شناخت کو ختم کرنا تھا۔

 

ایران اور خطے کی قوتوں کے خلاف موجودہ کشیدگی کا  اسٹریٹجک مقصد جمہوریت پھیلانا نہیں ہے، بلکہ میدان کو اس لیے خالی کرنا ہے تاکہ یہودی وجود بلا شرکتِ غیرے واحد علاقائی طاقت بن جائے، جس کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ اور ایٹمی عزائم ہوں، تاکہ اس قوم کی حفاظت کی جا سکے جسے قرآن نے زندگی کا سب سے زیادہ حریص قرار دیا ہے۔

 

دوم: آلہ کار بننے کا وہم۔۔۔ جب ٹشو پیپرز کا کام ختم ہو جاتا ہے

 

حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایرانی نظام نے افغانستان، عراق، یمن اور شام میں شر کے سرغنہ امریکہ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، جس کا ایرانی سیاست دانوں نے بڑی ڈھٹائی سے اعتراف بھی کیا ہے! ایران نے اس مجرمانہ ہاتھ کا کردار ادا کیا جسے مغرب نے امت میں اٹھنے والی کسی بھی مخلصانہ تحریک کو کچلنے اور ان نقصان دہ نظاموں کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جنہوں نے اسلامی ممالک کو لوٹ مار، جبر اور ظلم کی چراگاہوں میں بدل دیا۔

 

لیکن یہاں سب سے اہم سبق 'میعاد ختم ہونا' (expiry) ہے۔ سرمایہ دارانہ عرف میں یہ حکومتیں حلیف نہیں بلکہ صفائی کرنے والے وہ ٹشو پیپرز اور عارضی اوزار ہیں جنہیں کام ختم ہوتے ہی کچرے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ یہاں سے ہم ان ممالک میں موجود ہر ذی شعور کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ نجات مغرب کی گود میں گرنے میں نہیں، بلکہ کفر کے نظاموں سے تعلقات توڑنے، ملک کی سیاست کو اللہ کی شریعت کے مطابق چلانے اور ہمارے ممالک میں فساد مچانے والوں کے ساتھ دشمنی کو ہی ایک فطری حالت بنانے میں ہے۔

 

سوم: بین الاقوامی افراتفری اور ساکھ کا ٹوٹنا

 

عصری واقعات ثابت کرتے ہیں کہ مادی طاقت ہی سب کچھ نہیں ہے:

 

·                    روس: اس نے سوچا تھا کہ وہ یوکرین کا معاملہ چند دنوں میں حل کر لے گا، لیکن برسوں سے اس دلدل میں دھنس کر اپنی طاقت گنوا رہا ہے۔

 

·                    یہودی وجود: مکمل بین الاقوامی حمایت اور عربوں کی شرمناک بے حسی کے باوجود، کئی مہینوں کی طویل جنگ کے بعد بھی وہ فوجی طریقے سے اپنے بیشتر قیدیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہی، اور اسے صرف مکر و فریب سے ہی کامیابی مل سکی۔

 

اس افراتفری نے مغربی کیمپ کے اندر دراڑ پیدا کر دی ہے۔ چنانچہ سینیٹر کرس وان ہولن جیسے لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں جنہوں نے امریکہ کو جنگ میں گھسیٹنے کو حماقت قرار دیا، اور سینیٹر رینڈ پال نے بھاری اخراجات پر تنقید کی، یہاں تک کہ "جے اسٹریٹ" اور "JVP" جیسی یہودی تنظیموں نے بھی غیر اخلاقی ہونے کی بنیاد پر اس جنگ کی مذمت کی۔ اگرچہ یہ آوازیں محض مصلحت پسندی یا اپنی آسائشوں کے چھن جانے کے خوف سے اٹھ رہی ہیں، لیکن یہ سرمایہ دارانہ نظریے کے داخلی محاذ کے ٹوٹنے کی تصدیق کرتی ہیں۔

 

چوتھا: ایک نیا 'بعاث' اور خلافت کی خوشخبری

 

آج مسلمانوں کو ان تنازعات (روس یوکرین جنگ اور علاقائی قوتوں کی بے چینی) کو ایک نئے 'یومِ بعاث' کے طور پر دیکھنا چاہیے، جو رومیوں اور فارسیوں کے اس ٹکراؤ سے مشابہ ہے جو بعثتِ نبوی کے دور میں ہوا تھا اور جس کا ذکر قرآنِ کریم نے سورہ روم میں کیا ہے۔ بڑی طاقتوں کا ایک دوسرے کو کمزور کرنا ان سلطنتوں کے زوال کے لیے ایک الٰہی تمہید ہے، اور مسلمانوں کے لیے قیادت کی باگ ڈور سنبھالنے کی تیاری ہے۔ شام اور عراق میں ظالموں کا انجام اور علاقائی و بین الاقوامی طاقتوں کے تخت و تاج کا لرزنا ان لوگوں کے لیے ربانی اشارے ہیں جو اللہ کی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔ آج کی دنیا مغربی تہذیب کی تاریکی کے نیچے سسک رہی ہے، اور اسلامی تہذیب کے سوا اس کا کوئی نجات دہندہ نہیں جو اس درندگی کا خاتمہ کر سکے۔

 

خاتمہ: اللہ کا وعدہ کبھی نہیں ٹلتا

 

وہ ریاستیں جنہیں ہم آج جدید ترین اسلحے سے لیس دیکھ رہے ہیں، وہ حقیقت میں اللہ کی طاقت اور اس کی نصرت کے سامنے مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔ جس رب نے قدیم و جدید دور کے سرکشوں کو ہلاک کیا، وہی اپنے فضل کی تکمیل کرنے اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اپنے نبی ﷺ کی بشارت کو پورا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ

 

"بے شک ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے"(سورۃ غافر: آیت 51)

 

ولایہ شام میں حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس

 

.

 

 

 

Last modified onبدھ, 11 مارچ 2026 20:26

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک