الجمعة، 02 شوال 1447| 2026/03/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

الرایہ کی متفرقات – شمارہ 591

 

پہلے صفحے کی پیشانی پر

ہم دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو عید الفطر کے مبارک موقع پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انہیں دین کے اس عظیم شعار سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو انہیں جذباتی طور پر متحد کرتا ہے، تاکہ وہ عملی طور پر بھی متحد ہو سکیں۔ اور یہ وحدت اس طرح ممکن ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اپنی خلافت کے قیام کے لیے کام کریں، جس میں ہی ان کی واحد نجات ہے۔ یہ خلافت ہی ان کی اور ان کے ممالک کی حفاظت کرے گی، ان کے دشمنوں کا خاتمہ کرے گی اور اسلام کا پیغام پوری دنیا تک پہنچائے گی تاکہ لوگوں کو استعمار اور سرمایہ داریت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے نور کی طرف اور بندوں کے ظلم سے نکال کر رب العباد کے عدل کی طرف لایا جا سکے۔

===

 

پہلے صفحے کے لیے:

 

کفار سے وفاداری کا انجام عبرتناک ہے

 

مسلم ممالک کے حکمران کفار سے وفاداری کی سنگینی کو نہیں سمجھ سکے، جبکہ یہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب کا باعث ہے:

 

﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً﴾

 

"جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ تو عزت تو سب اللہ ہی کے لیے ہے"(سورۃ النساء :آیت  139

 

یہ حکمران اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ کافر ممالک کے لیے سب سے اہم ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور وہ دن رات اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی پالتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی ریاست یا اپنے ایجنٹوں کے بارے میں تھوڑی بہت رضا مندی کا اظہار بھی کرتے ہیں جو ان کے زیرِ اثر ہو، تو وہ ان کے لیے خیر نہیں چاہتے بلکہ دل میں شر چھپائے رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اگر یہ حکمران، خواہ وہ ان کے زیرِ اثر ہوں یا ان کے ایجنٹ ہوں، اس بات کو سمجھتے کہ امریکہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا جب اس کے مفادات ان کے زوال کا تقاضا کریں، تو وہ تاریخ کے واقعات سے عبرت حاصل کرتے۔ کتنے ہی ایجنٹوں کو امریکہ نے ان کا کام نکل جانے کے بعد گرا دیا۔ اگر یہ حکمران عقل سے کام لیتے تو وہ کفار کو گٹھلی کی طرح پھینک دیتے، لیکن وہ "بہرے، گونگے اور اندھے ہیں، سو وہ پلٹنے والے نہیں"۔ استعماری کفار کے ساتھ ان کی وفاداری اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان میں سے کسی بھی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرے اس کی مدد کے لیے حرکت نہیں کرتے، بلکہ ان میں سے بہترین وہ ہوتا ہے جو مقتولین اور زخمیوں کی گنتی کرتا ہے، جیسا کہ ایران پر حملے کے حوالے سے ہو رہا ہے۔

 

اے مسلمانو! تمہاری عزت تمہاری ریاست، خلافت راشدہ کی واپسی میں ہے۔ اور ہراول دستہ "حزب التحریر" جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، اس نے اللہ کے حکم سے خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز کے لیے خود کو مخلصانہ اور سنجیدہ جدوجہد کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ یہ واقعی وہ ہراول دستہ ہے جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، یہ وہ جماعت ہے جس کی پاکیزگی عیاں ہے اور ہر وہ شخص اس سے دور رہتا ہے جو اس کی پاکیزگی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم حزب اور اس کے ساتھ کام کرنے والے تمام نوجوانوں کو ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ وہ سنجیدہ، محنتی اور مخلص ہیں، جو اللہ کے حکم سے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو کہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ وہ دن رات محنت کرتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں کہ اللہ کا وعدہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشخبری ان کے ہاتھوں پوری ہو، اور اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔

 

یہی وہ راستہ ہے جو امت کو نجات دلائے گا، اس کی عزت بحال کرے گا، اس کی قوت کو مضبوط کرے گا اور دشمنوں کو اس پر حملہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کر دے گا۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب خلافت دوبارہ قائم ہو اور زمین اس کی خیر اور عدل سے روشن ہو جائے۔ جس طرح خلافت نے قیصر و کسریٰ کے تکبر کو خاک میں ملا دیا تھا، اسی طرح وہ ان کے پیروکاروں جیسے ظالم ٹرمپ اور اس جیسے استعماری کفار کے تکبر کو بھی ختم کر دے گی۔

 

جہاں تک یہودی وجود کا تعلق ہے، تو وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے کہ اسے کوئی اہمیت دی جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ﴾

 

"وہ تمہیں معمولی اذیت کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی"(سورۃ آل عمران :آیت  111

 

وہ اپنی ذات میں قائم رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ صرف لوگوں کے سہارے ہی لڑ سکتا ہے، جیسا کہ قادرِ مطلق کا فرمان ہے:

 

﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ﴾

 

"ان پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں، سوائے اللہ کی رسی اور لوگوں کی رسی کے سہارے کے"(سورۃ آل عمران :آیت  112

 

انہوں نے اللہ کی رسی کو کاٹ دیا ہے اور اب ان کے پاس صرف لوگوں کی رسی باقی ہے، یعنی امریکہ، یورپ اور مسلم ممالک کے غدار حکمران ایجنٹ جو یہودیوں کی وحشیانہ جارحیت کے سامنے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ پس اصل مسئلہ موجودہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کا ہے جو استعماری کفار اور اسلام و مسلمانوں کے دشمنوں کے وفادار ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کی مصیبت ان کے حکمران ہیں۔ جو اللہ سے وفاداری کے بجائے، اس کے احکامات نافذ کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی کرنے کے بجائے، استعماری کفار کے وفادار ہیں اور ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اسلام اور مسلمانوں کو عزت ملتی اور کفر و کافر ذلیل ہوتے۔

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

 

"اور اس دن مومن اللہ کی نصرت پر خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ غالب اور رحم کرنے والا ہے"(سورۃ الروم : آیت  4 ، 5 )

===

 

مرکزی سرخی کے تحت

 

آسٹریلوی حکومت نے حزب التحریر پر پابندی لگا دی اور اپنی تقدیر کو نسل کشی کرنے والی ریاست کی تقدیر کے ساتھ جوڑ دیا

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ: دنیا بھر کے مختلف دارالحکومتوں بشمول آسٹریلیا کے بڑے شہر سڈنی میں غزہ اور مغربی کنارے میں یہودی وجود کے جرائم کے خلاف احتجاج کے لیے لاکھوں کے مجمع نے آسٹریلوی حکومت کو آگ بگولہ کر دیا ہے، جو کہ ان نسل کش جرائم میں یہودی وجود کی بھرپور حامی اور مددگار رہی ہے۔ آسٹریلیا میں موجود صہیونیوں کے غصے میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب حزب التحریر ان لاکھوں لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوئی اور یہودی جرائم اور ان کی پشت پناہی کرنے والی آسٹریلوی حکومت کے موقف کے خلاف مسلم کمیونٹی کی قیادت کی۔ آسٹریلیا کی صہیونی حکومت کو جب کوئی راستہ نہ ملا تو اس نے اپنے لاکھوں ووٹروں کی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور ان تمام لوگوں کی مذمت شروع کر دی جو ان قتلِ عام کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور ارضِ مبارک فلسطین کے مظلوموں اور کمزوروں کی حمایت کر رہے تھے۔ چنانچہ اس حکومت نے اپنے ہی آئین اور ان اقدار کو پامال کرتے ہوئے جن کا وہ ڈھنڈورا پیٹتی تھی، حزب التحریر پر پابندی عائد کر دی اور ایک ایسا قانون وضع کیا جو شیطان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔

 

تنظیموں سے متعلق "نفرت" کا یہ قانون، جسے حکومت نے وضع کیا اور پارلیمنٹ نے رائے عامہ اور ووٹروں کو نظر انداز کرتے ہوئے منظور کیا، کافی حد تک اس "دہشت گردی کے قانون" سے مشابہ ہے جو شر کے سرغنہ امریکہ کی قیادت میں عالمی سطح پر مسلط کیا گیا تھا۔ اس ملک نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی جنگ چھیڑی تھی، جسے جارج بش نے اس وقت مسلمانوں کے بے پناہ وسائل کے لالچ میں اور بہترین امت پر اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کی خواہش میں "صلیبی جنگ" کا نام دیا تھا، تاکہ یہ امت اس کے غلبے اور غلامی سے آزاد نہ ہو سکے۔ بالکل اسی طرح یہ "نفرت کا قانون" بھی ہے، کیونکہ یہ ان تمام لوگوں کو مجرم قرار دینے کا قانون ہے جو بلند اور انسانی اقدار رکھتے ہیں، اور یہ ان سب کو نشانہ بناتا ہے جو یہودیوں کے جرائم اور ان کے ہاتھوں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر اگر مذمت کرنے والا امتِ مسلمہ سے ہو، وہ امت جو پوری کائنات کے لیے رحمت کا پیغام لے کر آئی ہے۔

===

حقیقی خودمختاری اللہ سے ڈرنے والے حکمرانوں کی متقاضی ہے

 

حزب التحریر / ولایہ بنگلہ دیش نے جمعہ 6 مارچ 2026 کو نمازِ جمعہ کے بعد ڈھاکہ اور چٹاگانگ کی مختلف مساجد کے گرد و نواح میں متعدد احتجاجی مظاہرے منظم کیے، جن کا مقصد تجارتی معاہدوں کی آڑ میں نافذ کیے جانے والے امریکی استعماری منصوبے کو مسترد کرنا تھا۔ ان مظاہروں میں مقررین نے امریکی نائب وزیر خارجہ، پال کپور کی ڈھاکہ آمد کے تناظر میں ملک کے اسٹریٹجک مستقبل پر گہری تشویش کا اظہار کیا، کیونکہ پارلیمانی انتخابات کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد ہونے والا یہ دورہ، دو خطرناک دفاعی معاہدوں: "عسکری معلومات کی حفاظت کا عمومی معاہدہ" اور "باہمی حصول اور خدمات کا معاہدہ" کو جلد از جلد انجام دینے کی شدید امریکی کوششوں کا عروج ہے۔ مقررین نے اس دورے کو خالصتاً معاشی اور تجارتی فریم ورک میں پیش کرنے کو کھلا نفاق یا حد درجہ سادگی قرار دیا۔

 

مقررین نے کہا: ہم کہتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو اس وہم سے پیچھا چھڑا لینا چاہیے کہ ان کی سیاسی بقا واشنگٹن کی رضا مندی پر منحصر ہے۔ کیونکہ امریکی سرپرستی اپنی فطرت میں ناپائیدار ہے۔ جیسا کہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران ایک سعودی اہلکار نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے خلیج میں اپنے ان اتحادیوں کو تنہا چھوڑ دیا جنہوں نے یہودی وجود کے تحفظ کے لیے مستقل امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کر رکھی ہے۔ تاریخ اس بار بار دہرائے جانے والے طرزِ عمل کی تصدیق کرتی ہے: جیسا کہ صدام حسین، حسنی مبارک اور بنگلہ دیش میں حسینہ کے ساتھ ہوا، جنہیں امریکہ کے مفادات کی وفاداری سے خدمت کرنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح ایک طرف پھینک دیا گیا۔

===

 

کیا وسطی ایشیا ایک ہی سوراخ سے دوبارہ ڈسا جائے گا؟

 

وسطی ایشیا آج ایسی جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی معاشی اہمیت اختیار کر چکا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسا اسٹریٹجک مرکز ہے جو ایشیا کو یورپ سے، اور یورپ کو ایشیا اور جنوبی ممالک سے جوڑتا ہے، اس کے علاوہ یہ خطہ قدرتی وسائل اور توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ روس اپنی پرانی دوستی کی یاد دلا رہا ہے، جبکہ چین، امریکہ اور یورپ نئی دوستی کے مختلف روپ پیش کر رہے ہیں۔ اسی دوران بعض پڑوسی ممالک، جیسے افغانستان، اور خاص طور پر اسلام کی دعوت دینے والوں کو ایسے دشمنوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جن سے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

ان عالمی قوتوں میں سے ہر ایک کی یہ کوشش ہے کہ وسطی ایشیا کی پانچ ریاستوں کے سربراہان کو یا تو اپنے ملک بلائیں یا خود وہاں کا دورہ کریں، تاکہ انہیں اتحاد اور شراکت داری کی طرف مائل کیا جا سکے، یعنی روس کی پرانی دوستی کی طرح (5+1) فارمولے کے تحت نئی دوستی۔ ان تمام قوتوں کا مقصد خطے کے اہم جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی معاشی مقام پر قبضہ کرنا اور یہاں کے بے پناہ اور نہ ختم ہونے والے وسائل کو ہڑپ کرنا ہے۔ آج جب روس یوکرین کی جنگ کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، تو یہ ایک پرانی دوستی سے چھٹکارا پانے کا سنہری موقع ہے، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی دوستیوں کے فریب میں نہ آیا جائے۔

آج وسطی ایشیا کے حکمرانوں اور وہاں کے باشعور طبقے کے سامنے ایک حقیقی چیلنج ہے۔ یہ چیلنج صرف پانچ بکھری ہوئی اور کمزور ریاستوں کے درمیان تعاون کو منظم کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی واحد، طاقتور اور بیدار ریاست کا قیام ہے جو سب کو متحد کرے اور یہ واضح طور پر جانتی ہو کہ دوست کون ہے اور دشمن کون۔

ماضیِ قریب میں انہوں نے ایک دوست کا انتخاب کیا تھا جس کے نتیجے میں انہیں ایک گہرا زخم لگا، اور آج جب ایک سنہری موقع میسر ہے، تو سوال یہ ہے کہ: کیا وہ کسی نئے دوست کا انتخاب کر کے دوبارہ اسی سوراخ سے ڈسے جائیں گے یا نہیں؟ کیونکہ عقل مند ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

===

 

خلافت کی ریاست میں نظامِ صحت کی ایک جھلک

 

دسویں صدی عیسوی میں قرطبہ کے ایک ہسپتال میں داخل ایک فرانسیسی نوجوان نے اپنے والد کو خط لکھا جس میں اس نے کہا: "میرے پیارے والد! آپ نے اپنے پچھلے خط میں ذکر کیا تھا کہ آپ میرے علاج میں مدد کے لیے مجھے کچھ رقم بھیجیں گے، لیکن مجھے رقم کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس اسلامی ہسپتال میں علاج مکمل طور پر مفت ہے، بلکہ یہ ہسپتال صحت یاب ہونے والے ہر مریض کو 5 دینار اور نئے کپڑے بھی دیتا ہے جب وہ ہسپتال سے رخصت ہوتا ہے، تاکہ اسے صحت یابی کے ابتدائی ایام (نقاہت کے دور) میں کام نہ کرنا پڑے"۔

 

"میرے پیارے والد! اگر آپ تشریف لائیں اور مجھ سے ملیں تو آپ مجھے جراحت (سرجری) اور جوڑوں کے علاج کے شعبے میں پائیں گے، اور آپ میرے کمرے کے پاس ایک لائبریری اور مطالعہ و لیکچر کے لیے ایک ہال دیکھیں گے، جہاں ڈاکٹر روزانہ اساتذہ کے لیکچر سننے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ جہاں تک خواتین کے امراض کے شعبے کا تعلق ہے، تو وہ ہسپتال کے صحن کی دوسری جانب واقع ہے اور وہاں مردوں کے داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ صحن کی دائیں جانب آپ کو ایک بڑا ہال ملے گا جو ان مریضوں کے لیے مخصوص ہے جو صحت یاب ہو چکے ہیں، جہاں وہ اپنی نقاہت کا دور گزارتے ہیں، اس ہال میں ایک خاص لائبریری اور موسیقی کے آلات بھی موجود ہیں"۔

 

"میرے پیارے والد! اس ہسپتال کا ہر حصہ اور ہر گوشہ صفائی کی انتہا پر ہے، جس بستر اور تکیے پر آپ سوتے ہیں وہ دمشق کے سفید کپڑے میں لپٹا ہوتا ہے، جبکہ کمبل مخمل کے نرم اور لطیف کپڑے سے بنے ہوئے ہیں۔ ہسپتال کے تمام کمروں میں صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے جو خاص پائپوں کے ذریعے وہاں پہنچتا ہے اور سردیوں کے لیے ہر کمرے میں انگیٹھی موجود ہے۔ جہاں تک کھانے کا تعلق ہے تو وہ مرغی کے گوشت اور سبزیوں پر مشتمل ہوتا ہے، یہاں تک کہ بعض مریض تو لذیذ کھانے کے لالچ میں ہسپتال سے جانا ہی نہیں چاہتے"۔ (الجزیرہ نیٹ)

===

 

فتنے کے دور اور باطل کے غلبے میں تبدیلی کے لیے مسلمان کی کوشش ایک عظیم عبادت ہے

 

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ» "فتنہ و فساد (ہرج) کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے" (مسلم)۔ امام احمد کی روایت میں "فتنہ و فساد میں عمل" کے الفاظ ہیں، جبکہ امام طبرانی کی المعجم الکبیر میں "فتنے کے زمانے میں عبادت" کے الفاظ آئے ہیں۔

 

فتنے کے دور میں، جب ہر طرف فساد اور باطل کا دور دورہ ہو اور لوگ بے مقصدیت اور بھٹکنے کا شکار ہوں، تو ایک مسلمان کا حق پر ثابت قدم رہنا اور تبدیلی کے لیے کام کرنا ایک عظیم عبادت بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک اس کا مقام اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے جیسا ہے۔ یہ ایک عظیم حدیث ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے اجر بڑے کاموں سے ہی ملتے ہیں، اور فتنوں میں ثابت قدمی اور اس وقت کام کرنا جب لوگ فضولیات میں مگن ہوں، انہی بڑے کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو بصیرت رکھنے والوں کو بتاتا ہے کہ اسلام عمل، ایثار اور تبدیلی کا دین ہے۔ یہ حرکت کا دین ہے نہ کہ جمود کا، اور قربانی کا دین ہے نہ کہ سستی کا۔ یہ دین عمل پر ابھارتا ہے اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے، عجز و انکساری اور بہانے بازی کو ناپسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بہترین امت اسی لیے قرار دیا کیونکہ یہ نیکی کا حکم دیتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اس سے پہلے اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔

 

چنانچہ مومن کا حال یہی ہے: علم اور عمل، ایسا ایمان جس کی تصدیق اس کے اعضاء ہر حال میں اور اپنی امت کے حق میں ایک فعال عمل کے ذریعے کریں یہاں تک کہ وہ اپنی جان اپنے پیدا کرنے والے کے سپرد کر دے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی روشنی سے رہنمائی حاصل کرتا ہے جسے امام احمد اور دیگر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إِنْ قَامَتْ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ» "اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، اور وہ اسے لگانے سے پہلے نہ اٹھ سکے تو اسے چاہیے کہ وہ پودا لگا دے"۔

===

 

مسلمان کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ ان کے پاس ان کے رب کی شریعت موجود ہے؟!

 

آج مسلمانوں کو کمزور اور ذلیل کر دیا گیا ہے، ان کے وسائل لوٹ لیے گئے ہیں، انہیں ہر طرح سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے اور ان سے وہ حقوق چھین لیے گئے ہیں جو انہیں ان کے رب سبحانہ و تعالیٰ نے عطا کیے تھے۔ وہ اس میدانِ عمل سے کیوں غائب ہیں جس کے وہ خود مالک ہیں، جبکہ کافر مغرب اس پر قابض ہونے کے لیے دست و گریباں ہے اور غدار حکمرانوں نے اس سے دستبرداری اختیار کر لی ہے؟!

 

مسلمان آخر کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ ان کے پاس ایمان جیسی دولت موجود ہے جو نصرت اور رعب و دبدبے کا سب سے مضبوط ستون ہے؟ وہ ان قوتوں کے خلاف میدانِ کارزار میں کیوں نہیں اترتے جو ان کے خلاف متحد ہو چکی ہیں؟ اور ان کی رگوں میں اسلامی حمیت (غیرت) کیوں نہیں دوڑتی؟!

 

اگر کوئی گہری سوچ بچار کے بغیر بھی دیکھے تو اسے ادراک ہو جائے گا کہ یہ حکمران ٹولے ہی امت کی تمام مصیبتوں کا سبب ہیں۔ انہوں نے ہمارے ملکوں کی فضائی حدود کو امریکہ اور یہودی ریاست کے لیے چراگاہ بنا دیا ہے جہاں وہ اپنی مرضی سے دندناتے پھرتے ہیں، جبکہ ہماری افواج کو بیڑیاں پہنا کر انہیں دشمن کو روکنے سے باز رکھا ہوا ہے۔ یہ حکمران حق کی آواز کو دباتے ہیں اور ہمارے خون کو استعماری کافروں کے منصوبوں کے لیے ارزاں (سستا) پیش کرتے ہیں۔

 

امتِ مسلمہ کے پاس زنجیریں اور رکاوٹیں توڑنے کے سوا اب کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ یعنی وہ مصنوعی سرحدیں جو استعمار نے ان کے ملکوں کے درمیان انہیں تقسیم کرنے کے لیے بنائی ہیں اور وہ غدار حکمران جو ان سرحدوں کی چوکیداری کر رہے ہیں۔ اولین فرائض میں سے ہے کہ امت متحد ہو جائے اور اپنے اقتدار کی واپسی اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ ثانی کے قیام کے لیے ایک پختہ موقف اختیار کرے۔ وہ ریاست جو اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے اللہ کی راہ میں جہاد کا اعلان کرے، کفر اور اس کے ماننے والوں کو شکست دے، اور امریکہ کو اس کے اپنے گھر میں واپس دھکیل دے، اگر اس کا کوئی گھر باقی رہا تو۔

===

Last modified onجمعرات, 19 مارچ 2026 22:40

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک