بسم الله الرحمن الرحيم
دنیا میں امریکہ کی غنڈہ گردی کو صرف ریاستِ خلافت ہی روک سکتی ہے
تحریر: ءستاد عبد الرؤوف العامری
(ترجمہ)
کیا امریکہ کی طرف سے دھوکہ دہی، اور انتہائی تکبر و غرور کے ساتھ ان کے ملک (ایران) کو تنہا کر کے، اپنے پروردہ یہودی وجود (اسرائیل) کے ساتھ مل کر اس پر حملہ کرنے، اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اس کی طاقت کے ستونوں کو ختم کرنے کی کوششوں کے بعد اب ایرانی نظام کے قائدین کو یاد آیا ہے کہ ان کی ایک ایسی امت بھی ہے جس کی تعداد عالمی سطح پر پھیلی ہوئی ہے؟ آج وہ امت کو یہ یاد دلانے آئے ہیں کہ ان کی بعض حکومتوں کا موقف نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے منافی ہے:«مَنْ سَمِعَ رَجُلاً يُنَادِي يَا لَلْمُسْلِمِينَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ» (جس نے کسی پکارنے والے کو سنا جو پکار رہا ہو: 'اے مسلمانوں (میری مدد کو پہنچو)!' اور اس نے اس کی پکار کا جواب نہ دیا، تو وہ مسلمان نہیں ہے)۔
لیکن یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب اسلامی بلاد کے گوشے گوشے سے مسلمان استعماری کفار کی جارحیت اور ان کے حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف فریاد کر رہے تھے؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کے بعض بڑوں نے بلا جھجھک یہ اعتراف کیا تھا کہ اگر ان کا نظام نہ ہوتا تو امریکہ کبھی عراق اور افغانستان پر قبضہ نہ کر پاتا؟ انہوں نے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ یہ ان کے مفادات کے حق میں تھا، جس نے امریکہ کو بین الاقوامی نظام کے تخت پر بیٹھنے کا موقع فراہم کیا، یہاں تک کہ اسے اب کوئی ایسا حقیقی حریف نظر نہیں آتا جو اس کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔
اس واضح حقیقت کے باوجود، (سنی) کہلانے والے نظام، (شیعہ) ایرانی نظام سے کس بنیاد پر بہتر ہیں؟ جبکہ ان سب نے مل کر امت کی توجہ امریکہ اور یورپ میں اس کے حواریوں، اور بلادِ اسلام میں یہودی وجود کے جرائم سے ہٹا کر اب ایرانی نظام کے جرائم (مثلاً شام اور عراق میں) یا یمنی عوام کے خلاف سعودی نظام اور سوڈان میں اماراتی نظام کے جرائم کے تذکروں میں الجھا دیا ہے۔ اگر ایرانی نظام نے اپنے علاقائی مفادات کو خطے میں امریکی پالیسی کی خدمت سے جوڑ رکھا تھا اور اب وہ تاخیر سے ہی سہی، امریکی دھوکے اور اس کی بے وفائی پر جاگ اٹھا ہے، تو پھر ان نظاموں کا کیا گلہ جو اس کے خلاف جنگ میں دھکیلے جا رہے ہیں؟ ان نظاموں نے تو اپنی پالیسیاں ہی امریکہ کے 'شکاری کتے' بننے پر استوار کر رکھی ہیں، جبکہ وہ سب خود بھی تقسیم، غیر مسلح کیے جانے، کمزور کرنے اور پھر ان کے تمام وسائل پر مکمل قبضے کے امریکی ایجنڈے پر شامل ہیں۔ امریکہ نے طویل منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے بعد، جس دوران سرد جنگ کے ذریعے سوویت یونین کو گرایا اور بیشتر مسلم ممالک میں برطانیہ اور یورپ کا اثر و رسوخ ختم کیا، اب وہ ان ریاستوں کے وجود کو بھی اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے جو کبھی اس کے زیرِ اثر تھیں اور عراق، افغانستان، شام، یمن اور لبنان میں اس کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے اس کا دستِ راست رہی ہیں۔ اسی لیے امریکہ نے ان کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے اور خطے کے کمزور و ناتواں نظاموں کو اس جنگ میں اپنی شرکت کی دعوت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تاکہ پورے خطے کو اپنی مرضی کے تابع کر سکے۔
تاہم، تبدیلی کی یہ لہر جس پر امریکہ مجبور ہوا ہے، صرف ان بیرونی عوامل کی وجہ سے نہیں ہے جو اس کی راہ میں حائل ہیں، بلکہ اس کمزوری کی وجہ سے بھی ہے جو اس کے سیاست دانوں اور مفکرین نے سرمایہ دارانہ نظریے کی بنیاد اور اس اثر و رسوخ کے ڈھانچے میں محسوس کی ہے جو اس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد تعمیر کیا تھا، کیونکہ اب وہ اس کے ذریعے دنیا پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہا۔ چنانچہ امریکہ اب ایک غیر معمولی تکبر کے ساتھ اپنے ہی بنائے ہوئے کئی معاہدوں اور اتحادوں کو خود ہی توڑ رہا ہے، کیونکہ وہ انہیں اپنی مستقبل کی حکمت عملی کی راہ میں رکاوٹ اور بوجھ تصور کرنے لگا ہے۔ اس کے مقابلے میں چین، روس اور بعض یورپی ممالک جیسی بڑی طاقتیں اس کے اقدامات کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہیں، اور ان کی یہ پالیسی براہِ راست ٹکراؤ سے بچتے ہوئے امریکہ کی بوکھلاہٹ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کے قریب تر ہے۔ لیکن بین الاقوامی نظام کے زوال اور امریکہ کی گرفت ڈھیلی پڑنے کا اصل سبب 'دین کو زندگی سے جدا کرنے' (سیکولرزم) کے نظریے کی حقیقت کا فاش ہونا ہے، جو اپنی اخلاقی اور قدرتی بنیادوں کے انہدام کے ساتھ انسانی توقعات پر پورا اترنے یا انسانی فطرت کے مطابق حل پیش کرنے میں اپنی نامیاتی معذوری ظاہر کر چکا ہے۔ یہ تہذیب اپنے قابو سے اس قدر باہر ہو چکی ہے کہ اب یہ انسان کو بری طرح پیس رہی ہے، جس سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ اس کا دوبارہ اٹھنا یا مغرب کا اپنی سمت درست کرنے کے لیے کوئی نئی جدت یا تبدیلی لانا اب ناممکن ہے۔
مغرب کے بہت سے مفکرین اور سیاست دانوں کی آراء، ریاستِ اسلام کے دوبارہ قیام کے بارے میں ان کے انتباہ، اور یورپ اور پوری دنیا پر اس کے غلبے کی پیشگوئیوں سے قطع نظر—جیسے کہ مفکر پال شمیٹر (Paul Schmitter) اپنی کتاب "اسلام: کل کی عالمی قوت" میں کہتا ہے: "صرف اسلام ہی اس خلا کو پُر کرنے اور انسانیت کو اس پستی سے نکالنے کے لیے قیادت کا منصب سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ صلاحیت اس آئیڈیالوجی کی اپنی ذات میں موجود ہے کیونکہ یہ علیم و حکیم (اللہ) کی طرف سے ہے"—حقیقت یہ ہے کہ زندگی خلا کو قبول نہیں کرتی، اس لیے اسلام کا نظریہ ہی وہ واحد متبادل ہوگا جس کا یہ زندگی انتظار کر رہی ہے۔ یہ زندگی اب ایک ایسے خطرے سے چھٹکارا پانے کی تیاری کر رہی ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے، بلکہ اگر امریکہ نے دنیا پر دوبارہ اپنا تسلط جما لیا تو یہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ امریکہ کی مطلق طاقت کا وہم، اور ایران میں اپنے اور اپنے پروردہ یہودی وجود (اسرائیل) کے اہداف حاصل کرنے میں اس کی ناکامی—یہاں تک کہ اب وہ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے اور کسی مددگار کی تلاش میں ہے—ان سب باتوں کے علاوہ حقیقت یہ ہے کہ وضعی (انسان کے بنائے ہوئے) نظاموں کو برقرار رکھنے پر اصرار، خواہ وہ جمہوری ہوں یا ملوکیت، امت کو اس کی ذلت سے نہیں نکال سکے گا اور نہ ہی کفر کے سرغنہ امریکہ پر اسے فتح دلا سکے گا۔ امت کی کامیابی ریاستِ خلافت سے وابستہ ہے جو محض ایک نیا سیاسی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک متبادل تہذیبی منصوبہ ہے، یعنی ایک اصولی ریاست میں اسلام، جو کہ 'خلافت علیٰ منہاج النبوت' (نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت) ہے۔ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکومت کرنا محض ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے، اور یہی وہ واحد نظامِ حکومت ہے جس کی مدد اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود فرماتا ہے۔
ان تمام باتوں کی علامات اس وقت ظاہر ہونا شروع ہو گئیں جب مسلمانوں نے اپنی طاقت اور اپنے دشمن کی کمزوری کا ادراک کر لیا، اب ان کے سامنے صرف ان زنجیروں کو توڑنا اور ان رکاوٹوں کو دور کرنا باقی رہ گیا ہے جو ان مصنوعی سرحدوں اور ان کی حفاظت کرنے والے حکمرانوں کی صورت میں موجود ہیں، تاکہ اسلام کے اس عظیم منصوبے کے لیے دروازے کھل جائیں جو دنیا کا رخ موڑ دے گا اور تاریخ کے دھارے کو درست کر دے گا۔ اس مقصد کے لیے نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے میدان میں آ چکے ہیں، جو علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال کے حقائق کو بخوبی سمجھتے ہیں اور تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں۔ بھلا ظالموں کی خواہشات اس آئیڈیالوجی کے سامنے کیسے ٹک سکیں گی جس پر وہ امت متحد ہو چکی ہے جو اس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ انسانیت کو خلافت کی ضرورت ویسے ہی ہے جیسے زندگی کو پانی کی، اور وہ اللہ قوی و عزیز کی مدد پر کامل یقین رکھتی ہے؟ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
﴿وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾
"تاکہ اللہ یہ معلوم کرے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی غیب میں مدد کرتا ہے، بیشک اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔" (سورۃ الحدید : آیت 25)




