السبت، 12 محرّم 1448| 2026/06/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کیا لیبیا کے لیے امریکہ کی قیادت میں حل کی راہ کامیاب ہوگی؟

 

 

تحریر: استاداحمد المہذب

 

(ترجمہ)

 

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ لیبیا اس وقت سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے۔ افریقی امور کے لیے ٹرمپ کے مشیر، مسعد بولس نے اس بحران کا ایک حل تجویز کیا ہے، تاہم یہ منصوبہ بعض بااثر داخلی دھڑوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ اس میں ان میں سے کچھ کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ دیگر کی قوت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ نتیجے کے طور پر، اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی اور اس کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ ان رکاوٹوں میں وہ احتجاجی مظاہرے اور ہنگامہ آرائی کے واقعات بھی شامل تھے جن میں لیبیا سے اقوام متحدہ کے مشن کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ناقدین اس مشن پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اس عمل میں مصنوعی تبدیلیاں لا کر اور مسئلے میں ایسے نئے عناصر متعارف کروا کر حل میں تاخیر کر رہا ہے جو نہ تو اصل مشاورت کا حصہ تھے اور نہ ہی خود تنازع کی وجوہات میں شامل تھے۔

 

اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے حل پر بحث کے لیے جمع کیے گئے بہت سے شرکاء نے اچانک خود کو ایسی نئی شرائط کا پابند پایا جن کا اصل میں کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا، اور یوں مکالمے کا رخ ہی بدل دیا گیا۔ چنانچہ، اس مشن کو ان لوگوں کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے جو بحران کو طول دینا چاہتے ہیں،جو کہ امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی خواہشات کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس صورتحال پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔

 

اقوام متحدہ کے مشن کو ملک سے نکالنا اب عوام کے لیے بذاتِ خود ایک نصب العین بن چکا ہے، جس کے پیچھے اس کردار کا شعور کارفرما ہے جو یہ مشن اس بحران میں ادا کر رہا ہے۔ یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ اس مشن کو تنازع کے دورانیے کو طویل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

 

اس تناظر میں ایک نئی پیش رفت ان افریقیوں کو نکالنے کے مطالبات کا ابھرنا ہے جو سرکاری دستاویزات کے بغیر ملک میں داخل ہو رہے ہیں،جنہیں "غیر قانونی مہاجرین" کہا جاتا ہے،جس کی وجہ سے سیاہ فام افراد کا پیچھا کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

 

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کچھ ادارے اس صورتحال کا استحصال کر رہے ہیں اور اسے شہ دے رہے ہیں، اور یہ الزامات بھی گردش کر رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کا مشن یورپی ممالک کے مفادات کی تکمیل کے لیے افریقیوں کو لیبیا میں آباد کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ بظاہر، امریکی تجویز ملک کو ان مسلح اور سیاسی دھڑوں سے نجات دلانے کی پیشکش کرتی نظر آتی ہے جو موجودہ تقسیم اور انتشار کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ ان مسلح گروہوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی مخصوص سرکاری ادارے یا سہولت پر قابض ہے،جیسے کہ مرکزی بینک، مغربی لیبیا کا واحد ہوائی اڈا، یا سمندری بندرگاہیں،جبکہ کچھ پورے صوبوں یا اہم بلدیات پر تسلط رکھتے ہیں۔

 

نتیجے کے طور پر، اس تجویز کی مخالفت بنیادی طور پر ان دھڑوں کی طرف سے آ رہی ہے جو موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

 

گہری نظر سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تجویز ملک کی اصل مصیبت، یعنی مغربی ایجنٹوں، بالخصوص امریکہ کے ایجنٹوں کے غلبے کا کوئی حقیقی حل پیش نہیں کرتی۔ اس کے بجائے، یہ صرف عوام کی تکالیف کے لیے ایک عارضی تسکین اور سیاسی طور پر متحرک آبادی کو دھوکہ دینے کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد کچھ وقت کے لیے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ امریکی تجویز میں دو سال کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد غالباً بحران کو طول دینے کے لیے کوئی نیا حربہ متعارف کرایا جائے گا۔ یہ حکمت عملی امریکہ کو اسلامی دنیا کے ان دیگر خطوں کی طرف متوجہ ہونے کا موقع دیتی ہے جو اس کے زیرِ اثر ہیں اور ان ایجنٹوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے جن کے عہدے خطرے میں ہیں،جیسے کہ سوڈان یا شام میں۔

 

یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ لیبیا کی داخلی صورتحال تیزی سے غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ خاص طور پر اس وقت ہو رہا ہے جب عوام اس حقیقت سے آگاہ ہو رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کا مشن بعض یورپی ممالک کے ساتھ مل کر لیبیا کو غیر قانونی ہجرت کا مرکز بنانے کی سازش کر رہا ہے،جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی نسلی کشیدگی کے درمیان وسطی افریقہ سے مہاجرین کی بڑی تعداد ملک میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال مختلف مفادات کو تقویت دیتی ہے، اور اوپر سے وہ موقع پرست بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں جو سماجی فکر کے لبادے میں ہجوم کے جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔ مزید برآں، کارکنوں کے گروہوں نے اقوام متحدہ کے مشن کے خلاف تحریک شروع کر دی ہے اور مہاجرین کو مستقل طور پر آباد کرنے اور حل کی راہ روکنے کے لیے بحران کو طول دینے کے مشکوک منصوبوں میں اس کے کردار کی وجہ سے اس کی بے دخلی کا مطالبہ کیا ہے۔ مختصراً یہ کہ لیبیا اس وقت امریکہ کی طرف سے پیش کیے گئے "زہریلے حل" کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان تجاویز کا مقصد محض ایک عارضی مداوا فراہم کرنا ہے تاکہ کسی فوجی دھماکے کو روکا جا سکے،ایک ایسا منظرنامہ جس کے بارے میں امریکہ کا خیال ہے کہ وہ قابو سے باہر صورتحال کا باعث بنے گا۔

 

امریکہ نے بظاہر اپنا مجوزہ حل پیش کر دیا ہے، جس کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:

1.        جنرل کمانڈ کا خاتمہ، جو کہ درحقیقت حفتر کا ادارہ ہے۔

2.        تین فوجی زون قائم کرنا:

(الف) بنغازی ملٹری زون، جس کی قیادت خالد حفتر کریں گے۔

(ب) سدرن ملٹری زون، جس کی قیادت افسر علی قنا کریں گے، جو سابقہ حکومت کی باقیات سے وابستہ ایک تجربہ کار افسر ہیں۔

(ج) ویسٹرن لیبیا ملٹری زون، جو ابو گرین سے تیونس کی سرحد پر راس اجدیر تک پھیلا ہوا ہے، جس کے سربراہ میجر جنرل النمروش ہوں گے۔

3.        دفاع کے نئے وزیر کا تقرر۔

4.        مشرقی حکومت کو ختم کرنا اور اس کے وزراء کو دبیبہ حکومت میں ضم کرنا۔

5.        صدام حفتر کو صدارتی کونسل کا سربراہ مقرر کرنا،جو عوامی نظر میں ملک کا اصل حکمران ہوگا،یہ عہدہ اس وقت محمد المنفی کے پاس ہے۔

6.        نئی دبیبہ حکومت کو،جو اب مشرق کے وزراء کی شمولیت سے مضبوط ہو چکی ہے،پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے 24 ماہ کی مہلت دینا۔

7.        انتخابات کے بعد دارالعوام (House of Representatives) اور سپریم کونسل آف اسٹیٹ دونوں کو تحلیل کرنا۔

 

اس میں مرکزی بینک اور نیشنل آئل کارپوریشن کے حوالے سے اضافی دفعات بھی شامل ہیں، اگرچہ یہ مقامی تنازعے کا مرکزی حصہ نہیں ہیں۔

 

صدارتی کونسل کے چیئرمین محمد المنفی، لیبیا کی سپریم کونسل آف اسٹیٹ کے سابق چیئرمین خالد المشری، اور طبرق میں قائم پارلیمنٹ، یعنی لیبیا کے دارالعوام کے اسپیکر عقیلہ صالح نے فوری طور پر اس تجویز کی مخالفت کی۔

 

اسے بعض قومی شخصیات کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جیسے کہ محمد صوان، جو اخوان المسلمون سے وابستہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے اسے ایک "اوپر سے مسلط کردہ سودا" قرار دیا اور مسعد بولس کی اس تجویز پر ایک طویل تبصرے میں اسے "سیاسی منظرنامے کو دوبارہ ترتیب دینے کا ایک جلد بازی میں کیا گیا سمجھوتہ" قرار دیا۔ ایک تبصرے میں، ممتاز تجزیہ نگار محمد محفوظ نے نوٹ کیا کہ اس تجویز نے مختلف دھڑوں کی طرف سے شدید ردعمل کو جنم دیا؛ عملی اقتدار کے حصوں نے،بشمول عقیلہ صالح اور ان کی پارلیمنٹ کے وہ اراکین جو مغرب، جنوب اور مشرق کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ساتھ ہی سپریم کونسل آف اسٹیٹ اور صدارتی کونسل کے اندر موجود شخصیات، اور مختلف بااثر شخصیات اور سیاسی جماعتوں نے،اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ مقامی ٹیلی ویژن چینلز، جیسے کہ 'لیبیا الاحرار' اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ جیسے کہ 'الجزیرہ' نے اس اقدام پر تنقید کے لیے بھرپور وقت وقف کیا۔ مثال کے طور پر، 'الجزیرہ نیٹ' نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا "طاقتوروں کی شراکت داری یا موجودہ صورتحال کا استحکام؟" جس میں یہ دلیل دی گئی کہ امریکی اقدام مؤثر طریقے سے ایک ایسے عملی تصفیے کے نفاذ کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی توجہ موجودہ اثر و رسوخ کے حلقوں کو قانونی حیثیت دینے اور مشرقی لیبیا میں حفتر خاندان اور مغرب میں دبیبہ خاندان کے درمیان اقتدار کی تقسیم پر مرکوز ہے۔

 

دریں اثناء، 'عرب پوسٹ' کی ویب سائٹ نے ایک مفصل رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا "کیا بولس اقدام حفتر اور دبیبہ خاندانوں کے درمیان اقتدار کی دوبارہ تقسیم کے سودے میں بدل جائے گا...؟" رپورٹ میں پردے کے پیچھے ہونے والی غیر اعلانیہ ملاقاتوں پر روشنی ڈالی گئی جن کا مقصد ایک نیا گورننس فارمولا وضع کرنا ہے جو پہلے انتخابات منعقد کیے بغیر مشرق اور مغرب کے اثر و رسوخ کو یکجا کرے۔

 

بین الاقوامی اور اطالوی میڈیا اداروں،جیسے کہ 'جون افریق' (Jeune Afrique) میگزین،نے بھی روم میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں کی تفصیلات ظاہر کیں جن میں دونوں اطراف کی نمائندگی کرنے والی اہم شخصیات شریک تھیں،خاص طور پر ابراہیم دبیبہ، جو کہ قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ کے کزن ہیں، اور صدام حفتر، جو کہ مشرقی لیبیا میں مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے بیٹے ہیں۔

 

تصفیے کی بنیادوں کے بارے میں پریس رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکی نقطہ نظر انتہائی عملیت پسندی (pragmatism) اور زمین پر موجود اصل مراکزِ قدرت کے ذریعے استحکام برقرار رکھنے پر انحصار کرتا ہے۔ یہ براہ راست دو طرفہ افہام و تفہیم پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور سیاسی عمل کو ان دو شخصیات تک محدود کرتا ہے جو سب سے زیادہ مالی اور فوجی اثر و رسوخ رکھتی ہیں،یعنی ابراہیم دبیبہ اور صدام حفتر،تاکہ سپریم کونسل آف اسٹیٹ اور دارالعوام کے درمیان پیچیدہ تنازعات کو نظرانداز کیا جا سکے، جبکہ اس اقدام کا محور معیشت اور تیل کے شعبے کو بنایا گیا ہے۔

 

تاہم، ان مباحثوں نے زمین پر موجود بااثر قوتوں کی جانب سے اعتراضات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے؛ نتیجتاً، امریکی اقدام کی ناکامی کا قوی امکان ہے اور اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو پچھلی کوششوں کا ہوا تھا۔ اس لیے، ایک ایسی فکری بنیاد قائم کرنا ضروری ہے جس پر ملک کی متصادم اور حریف قوتیں متحد ہو سکیں۔ اسلام کے علاوہ ایسی کوئی بنیاد نہیں جو ان دشمن دھڑوں کو متحد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق:

 

﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَامِ دِيناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ﴾

 

"اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔" [سورۃ آل عمران: 85]

Last modified onجمعہ, 26 جون 2026 23:46

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک