السبت، 12 محرّم 1448| 2026/06/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوڈان: المناک اعداد و شمار اور ایجنٹوں کے تصادم کے درمیان

 

 

  تحریر: استاد عبد الخالق عبدون

 

(ترجمہ )

 

16 جون 2026 کو، سوڈان میں قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیوں اور جرائم کی تحقیقات کرنے والی قومی کمیٹی نے اعلان کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک حراست اور جبری گمشدگی کے 15,000 واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ کمیٹی کی سربراہ اور سوڈانی پبلک پراسیکیوٹر انتصار عبد العال نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران بتایا کہ درج شدہ فوجداری مقدمات کی تعداد 149,860 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 385 ایسے مقدمات شامل ہیں جو باقاعدہ فورسز ، یعنی فوج، پولیس اور انٹیلی جنس سروسز ، کے ارکان کی طرف سے کی گئی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں سے متعلق ہیں، جن کی قانونی استثنیٰ ٹرائل کی تیاری کے لیے ختم کر دی گئی ہے۔ انتصار عبد العال نے وضاحت کی کہ عدالتیں جرائم، خلاف ورزیوں اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے ساتھ ملی بھگت سے متعلق 10,417 مقدمات کا فیصلہ کر چکی ہیں، اور مزید 21,787 مقدمات میں تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جنہیں فیصلے کے لیے قومی عدالتوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ انتصار نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ان کی شرکت کا مقصد انسانی حقوق کونسل کو انصاف کے حصول، متاثرین کی دادرسی اور سزا سے بچنے کے کلچر کو روکنے کے لیے کی جانے والی قومی کوششوں سے آگاہ کرنا تھا۔

 

اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ تنظیموں نے سوڈان کی صورتحال کو دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی اور بھوک و نقل مکانی کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے پرنسپل ڈپٹی ترجمان ویدانت پٹیل نے بتایا کہ 150,000 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 14 ملین سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں، اور یہ المیہ اب بھی جاری ہے۔ اس دوران، سوڈان کے وزیر سماجی امور نے اطلاع دی کہ وزارت نے جنگ شروع ہونے سے لے کر اکتوبر 2025 کے درمیان عصمت دری کے 1,800 واقعات ریکارڈ کیے ہیں ۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جن میں الفاشر اور کردوفان کے واقعات شامل نہیں ہیں۔ ایسے گھناؤنے فعل اکثر خاندان کے افراد کی موجودگی میں کیے جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کو غلام بنانا اور ان کی اسمگلنگ بھی جاری ہے، جنہیں پڑوسی ممالک میں فروخت کیا جاتا ہے۔ 'سوڈان ٹریبیون' نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گولہ باری اور حملوں کی وجہ سے 37 فیصد طبی مراکز غیر فعال ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1,858 طبی عملے کے ارکان ہلاک اور 490 زخمی ہوئے۔ بے روزگاری کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے ، جو جنگ سے پہلے 32 فیصد تھی ، جس کے نتیجے میں پچاس لاکھ افراد اپنی آمدنی کے بنیادی ذریعے سے محروم ہو چکے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں، 'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' (MSF) نے جنوری 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان جنوبی دارفور میں جنسی تشدد کے 659 متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ ان میں سے 68 فیصد کیسز ریپ (عصمت دری) کے تھے؛ متاثرین میں 94 فیصد خواتین اور لڑکیاں تھیں، جن میں سے 31 فیصد کی عمر 18 سال سے کم اور 7 فیصد کی عمر دس سال سے بھی کم تھی۔

 

سوڈانی حکومت نے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) پر دارفور کے علاقے میں 'دیگریس' اور 'شالا' جیلوں کے اندر انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کا ایک منظم نیٹ ورک چلانے کا الزام عائد کیا ہے، جہاں سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً 20,000 فوجی اور سویلین قیدیوں کو رکھا گیا ہے، تاہم، RSF کے ذرائع نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

 

15 جون 2026 کو 'الجزیرہ نیٹ' نے رپورٹ کیا کہ شمالی دارفور کے علاقے 'امبرو' کی لوکیلٹی میں واقع 'اورشی ڈیم' کے علاقے میں RSF کی جانب سے دیہاتوں کو جلانے اور املاک کو لوٹنے کی کارروائیاں مسلسل دوسرے دن بھی جاری رہیں، جس کے دوران ہزاروں خاندان نقل مکانی کر کے قریبی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ شمالی دارفور میں عوامی مزاحمت (پاپولر ریزسٹنس) کے سرکاری ترجمان ابوبکر احمد امام نے الجزیرہ نیٹ کو بتایا کہ RSF نے گزشتہ صبح اس علاقے پر ایک بڑا حملہ کیا تھا، جس میں فوجی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار جنگجوؤں کو استعمال کیا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں آٹھ دیہات مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئے اور اورشی مارکیٹ کو لوٹنے کے بعد نذرِ آتش کر دیا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں مویشی اور گھروں کا سامان بھی چوری کر لیا گیا۔

 

یہ حملہ 'تینا' اور 'کرنوئی' کے سرحدی علاقوں اور ان کے گردونواح کو نشانہ بنانے والے کئی دنوں کے بے مثال ڈرون حملوں کے بعد کیا گیا ہے، جبکہ اورشی سے بے گھر ہونے والے لوگ درختوں کے نیچے پناہ لینے اور کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔

 

ابوبکر امام نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) اب بھی علاقے میں موجود ہیں اور بڑے پیمانے پر گھروں کو جلانے کا سلسلہ جاری ہے؛ یہ خطہ اپنے رہائشیوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی سے بالکل محروم ہے۔ امام نے بتایا کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم پانچ شہری ہلاک ہوئے جبکہ دیگر کو اغوا کر لیا گیا، اور ہزاروں خاندان وادیوں اور قریبی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے ہیں جو درختوں کے نیچے کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

 

ایک متعلقہ پیش رفت میں، دارفور ریجن کے گورنر منی ارکو مناوی نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ یہ نیا جرم "دارفور کے آبادیاتی نقشے (ڈیموگرافک میپ) کو تبدیل کرنے کی ایک منظم حکمت عملی" کا حصہ ہے۔

 

24 مئی کو، آر ایس ایف (RSF) کے ڈرونز نے ٹینا کی پرہجوم مارکیٹ کو نشانہ بنایا، جس میں 14 شہری ہلاک ہوئے،جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے،اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اگلے دن، کارنوئی میں اسی طرح کا قتلِ عام ہوا، جس میں سات افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ بڑھتی ہوئی جارحیت کے سلسلے میں یہ حملے امبارو اور اس کے گردونواح تک پھیل گئے۔ 26 مئی کو، آر ایس ایف کی افواج نے ٹینا کے مغرب میں واقع 'باسو' پانی کے ذخیرے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین شہری ہلاک ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد بے گھر افراد اور مقامی رہائشیوں کے لیے زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھنے والا ذریعہ تباہ کر دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق، سویلین انفراسٹرکچر کو بار بار نشانہ بنانا اس منظم حکمتِ عملی کی تصدیق کرتا ہے جس کا مقصد بقا کے ذرائع کو ختم کرنا اور شہریوں کو فرار ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جو اس سے قبل ٹینا، کارنوئی اور امبارو کے علاقوں میں بھی اپنایا جا چکا ہے۔

 

مسلح جدوجہد کی تحریکوں کی مشترکہ فورس کے ترجمان میجر متوکل علی وکیل ابوجا نے الجزیرہ نیٹ کو بتایا کہ پانی کے ذرائع کو نشانہ بنانا صرف باسو کے ذخیرے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ امبارو اور ٹینا میں واقع اورشی ذخیرے اور دیگر مقامات تک بھی پھیلا ہوا تھا۔

 

شمالی دارفور میں عوامی مزاحمت کے ترجمان ابوبکر احمد امام نے پہلے ہی یہ بیان دیا تھا کہ یہ واقعات محض اتفاقی نہیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "پانی کے ذرائع کی تباہی اور مساجد پر گولہ باری کوئی اتفاق نہیں تھی، بلکہ یہ زندگی برقرار رکھنے والے وسائل کو کاٹنے، آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرنے اور آبادیاتی نقشہ تبدیل کرنے کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے"۔

 

حالیہ ہفتوں میں، ٹینا، کارنوئی، امبارو اور اورشی کے علاقوں میں نقل مکانی کی پے در پے لہریں دیکھی گئی ہیں۔ جیسے جیسے ریپڈ سپورٹ فورسز اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، وہاں کے رہائشی تحفظ کی عدم موجودگی اور مسلسل سیکیورٹی خطرات کے باعث انتہائی ابتر حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نئے بے گھر ہونے والے لوگ ان ہزاروں خاندانوں میں شامل ہو رہے ہیں جو بغیر کسی چھت، خوراک یا دوا کے درختوں کے نیچے کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ مزید برآں، حملے کی زد میں آنے والے اس خطے میں زخمیوں کے علاج کے لیے کوئی فیلڈ ہسپتال موجود نہیں ہے، اور جلے ہوئے دیہات پانی سے محروم ہو چکے ہیں؛ بے گھر خاندان وادیوں کے درختوں کے نیچے کسی بھی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، جو بالکل ویسسی ہی صورتحال ہے جیسی اس سے قبل ٹینا، کارنوئی اور امبارو میں دیکھی گئی تھی۔

 

یہ کشیدگی ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے باسو پانی کے ذخیرے کو نشانہ بنانے کے بعد بڑھی ہے،یہ ایک ایسا فعل ہے جسے قانونی ماہرین نے جنیوا کنونشن کے پروٹوکول ون (I) کے آرٹیکل 54 کے تحت ایک "مکمل جنگی جرم" قرار دیا ہے، جو شہری آبادی کے لیے ناگزیر پانی کی تنصیبات کی تباہی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

 

سوڈان میں جو کچھ ہو رہا ہے،وہ نیک لوگوں کی سرزمین، قرآنِ کریم کی سرزمین، کعبہ کو غلاف پہنانے والے علی دینار کی سرزمین،یہ سب کچھ ہرگز نہ ہوتا اگر ان حکمرانوں کی غلامی اور ملی بھگت نہ ہوتی، جو اپنے آقاؤں کی اس قدر اندھی پیروی کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی گوہ (چھپکلی نما جانور) کے بل میں بھی داخل ہوں تو یہ بھی ان کے پیچھے پیچھے وہیں چلے جائیں گے!

 

یہ جنگ امریکہ کی ہدایات پر اس کے ایجنٹوں، البرہان اور دقلو نے بھڑکائی تاکہ سوڈان پر یورپ،اور بالخصوص برطانیہ،کی گرفت کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس لایعنی تصادم کے نتیجے میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور المناک واقعات کی کوئی پرواہ نہ کی۔ سوڈان کے عوام اس وقت تک کبھی دوبارہ سر بلند نہیں ہو سکیں گے جب تک ان پر استعمار کے ایجنٹ حکمران رہیں گے،وہ لوگ جو نہ تو کسی قرابت داری کا پاس رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی عہد و پیمان کا، اور جن کی واحد فکر اور تڑپ ملک اور عوام کی قیمت پر محض اپنے آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔

 

نجات اور پناہ کا اب کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ اس ریاست کے تحت اسلامی احکامات کو نافذ کیا جائے جسے اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر فرض کیا ہے: یعنی خلافت راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ،وہ ریاست جو امتِ مسلمہ کی حفاظت کرے اور کفر و کافروں کو پسپا کر دے۔

 

ولایہ سوڈان  میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onجمعہ, 26 جون 2026 23:23

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک