الجمعة، 17 صَفر 1448| 2026/07/31
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوڈان کی جنگ کو ضروری توجہ کیوں نہیں مل رہی؟

 

تحریر: استاد محمد جامع (ابو ایمن)

(ترجمہ)

 

سوڈان میں مسلسل فوجی جمود کی صورتحال ان کارروائیوں کے راستے میں حائل ابہام کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے جو دارفور کی سرحدوں پر رک گئی ہیں، کیونکہ مبصرین کے لیے بغاوت کو ختم کرنے کے لیے دارفور میں فوج کی میدانی پیش قدمی نہ ہونے کی وجوہات کو سمجھنا مشکل ہو رہا ہے، جس نے اس خطے کو ریپڈ سپورٹ فورسز  کے کنٹرول کا یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے۔ کارروائیوں کے رکنے کے ساتھ ساتھ، یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ جنگ کو روکنے میں کامیابی حاصل کیے بغیر تصفیے کی کوششوں کو صرف جدہ پلیٹ فارم یا چار فریقی اقدامات تک ہی کیوں محدود رکھا گیا ہے، جبکہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے حقیقی دباؤ ڈالنے میں غیر منصفانہ بین الاقوامی سستی کے بارے میں بڑے سوالیہ نشانات موجود ہیں۔

 

ان سوالات کا جواب دینے کے لیے ایک واضح اور ناقابلِ تردید حقیقت کا جاننا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ ہی سوڈان میں سیاسی اور فوجی حالات کو کنٹرول کر رہا ہے اور دوسروں کو اس کے معاملات میں مداخلت کرنے سے روک رہا ہے۔

 

اس کی تصدیق کرنے والے بہت سی مثالیں موجود ہیں:

1- سوڈان کی جنگ کا اصل محرک امریکہ ہی ہے، کیونکہ یہ جنگ بنیادی طور پر اس فریم ورک معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے امریکی ایما پر شروع کی گئی تھی جو سابق وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی قیادت میں 'فورسز آف فریڈم اینڈ چینج' کے تحت برطانیہ اور یورپ کے وفادار شہریوں کو اقتدار دینے والا تھا۔ اسی طرح امریکہ مخصوص معاہدوں کے متن کو بغیر کسی تبدیلی کے نافذ کرتا ہے (جیسا کہ جنیوا اور سوئٹزرلینڈ کے مذاکرات میں ہوا)، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، بلکہ وہی حل تیار کر رہا ہے اور ریاست کی سیکولرزم کی ضمانت دینے والی شرائط مسلط کر کے، ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور علاقائی افواج کے حق میں فوج کو ختم کر کے مستقبل کی ریاست کی شکل وضع کر رہا ہے جو ملک کی تقسیم کی راہ ہموار کرتی ہے۔

 

2- امریکہ نے اس جنگ کو ایک ایسی امریکی سازش پر عمل درآمد کرنے کے لیے استعمال کیا ہے جس کا وہ عادی ہے، جس میں وہ ملک کی تقسیم کے اسی منظرنامے کو دہرا رہا ہے جو اس نے نسلی تعصبات کو ہوا دے کر جنوب کو الگ کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، تاکہ علیحدگی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک نئی بغاوت پیدا کی جا سکے۔ چنانچہ "نیالا" ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول میں ایک نیا دارالحکومت بن گیا ہے جس کی اپنی الگ کرنسی اور ایک مکمل ریاست کا انتظام ہے جو خرطوم کی حکومت کے تابع نہیں ہے، جس پر کوئی حملہ نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے انتظام میں کوئی خلل ڈالتا ہے، نہ فوج اور نہ ہی مبینہ بین الاقوامی دباؤ۔

 

3- دارفور اور پورٹ سوڈان میں دو حکومتوں کے ذریعے لیبیا کے منظرنامے کو پختہ کرنا۔ امریکہ نے لیبیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ایک مماثل تصویر بنا کر دارفور کی علیحدگی تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں وقف کر دی ہیں، یعنی "نیالا" میں ایک بانی حکومت کے اعلان کے بعد پورٹ سوڈان حکومت کے مقابلے میں دو اتھارٹیز اور دو حکومتوں کو پختہ کرنا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ جنگ کو طول دینے کے لیے صرف ملامت اور مذمت پر اکتفا کر رہا ہے تاکہ یہ سازش مکمل طور پر تیار ہو جائے۔

 

4- جدہ پلیٹ فارم کے ذریعے حل پر اجارہ داری قائم کرنا اور کسی بھی دوسرے حل کو روکنا۔ امریکہ نے جدہ پلیٹ فارم قائم کیا اور اسے مذاکرات کا واحد فورم بنایا تاکہ وہ اس معاملے پر مکمل طور پر قابض ہو سکے اور اپنی مرضی سے باہر کسی بھی ثالثی کو روک سکے، خاص طور پر یورپ، برطانیہ اور فرانس کے تابع قوتوں کے ذریعے، جو پیرس، ادیس ابابا یا نیروبی جیسے متوازی پلیٹ فارمز کے ذریعے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن امریکہ انہیں اس کی اجازت نہیں دے رہا۔ جدہ پلیٹ فارم کے علاوہ دیگر فورمز بنانے کی برطانیہ کی کوششیں بار بار ناکام ہوئیں، جن میں لندن کی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران جو 15/4/2025 کو منعقد ہوئی، سوڈان کے لیے ایک خصوصی بین الاقوامی رابطہ گروپ بنانے کی کوشش بھی شامل تھی، جس نے برطانوی وزارت خارجہ کو اس راستے پر کسی معاہدے تک نہ پہنچنے پر عوامی سطح پر اپنے دکھ کا اظہار کرنے پر مجبور کیا۔

 

5- سوڈان کے تنازعے میں بین الاقوامی دلچسپی کی کمی کی وضاحت: امریکہ سوڈان میں سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ پر اپنی گرفت مضبوط کیے ہوئے ہے، وہ فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے اپنے ایجنٹ کمانڈروں کے ذریعے اس تنازعے کی قیادت کر رہا ہے۔

 

ایسے بہت سے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر بلا جھجک امریکی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، اور اس کے سب سے بڑے ثبوت یہ ہیں:

 

1- دارفور کے تمام شہروں سے فوج کا پے در پے پیچھے ہٹنا اور انہیں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کرنا۔

 

2- دارفور  کی سرحدوں پر لڑائی کا رکنا اور تنازعے کو حل کرنے کی صلاحیت کے باوجود فوج کا آگے نہ بڑھنا، بلکہ امریکہ کے وفادار فوج کے بڑے کمانڈر ہی ہیں جو فوج کو آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں، یہاں تک کہ سپاہیوں کے درمیان بڑے کمانڈروں سے ملاقات کے وقت یہ جملہ مشہور ہو گیا ہے کہ (فك اللجام يا سعادتك)  "اے سعادتک لگامیں کھولو"جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فتح اور لڑائی کے شوقین ہیں لیکن 'سعادتک' جو کہ بڑا کمانڈر ہے، نے ان کی لگامیں نہیں کھولیں، یعنی انہیں حملے اور بغاوت کی کمر توڑدینے کے احکامات نہیں دیے۔

 

3- سوڈانی حکومت کی طرف سے ملک میں امن و استحکام کے قیام کے بہانے 10/3/2025 کو دارفور کے شہروں سے انخلا کے لیے پیش کیا گیا روڈ میپ۔

 

چنانچہ 3/4/2025 کو انڈپینڈنٹ عربیہ سمیت کئی نیوز سائٹس نے اقوام متحدہ میں سوڈان کے نمائندے الحارث ادریس کی جانب سے 10 مارچ کو اس کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو پیش کی گئی ایک دستاویز شائع کی، جس میں ملک میں امن و استحکام کے حصول کے لیے ایک روڈ میپ شامل تھا، جس میں کہا گیا تھا: (جنگ بندی ہوگی، لیکن اس کے ساتھ خرطوم، کردوفان اور الفاشر کے گرد و نواح سے مکمل انخلا اور دارفور  میں جمع ہونا ضروری ہے جو ملیشیا کی موجودگی کو زیادہ سے زیادہ 10 دنوں کی مدت میں قبول کر سکتی ہو.. بے گھر افراد کی واپسی اور انسانی امداد کی آمد کا آغاز زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی مدت میں ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے مختلف اداروں میں زندگی اور کام کے پہیے کو بحال کرنا ضروری ہے اور ضروری انفراسٹرکچر جیسے پانی، بجلی، سڑکیں، صحت اور تعلیم کی مرمت ہونی چاہیے، بشرطیکہ اس معاملے پر عمل درآمد کی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہ ہو.. نو ماہ مکمل ہونے کے بعد، سرپرست فریق کے ساتھ باغی ملیشیا کے مستقبل کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا جا سکتا ہے، اور آزاد لوگوں پر مشتمل حکومت کی تشکیل کی جا سکتی ہے جو اس عبوری دور کی نگرانی کرے گی جس میں جنگ کے بعد ریاست کا انتظام چلایا جائے گا، اور سوڈان کے اندر ایک جامع سوڈانی-سوڈانی مکالمے کا انتظام کیا جائے گا جس کی سرپرستی اقوام متحدہ کرے گی اور کسی کو بھی اس سے باہر نہیں رکھا جائے گا، جس کے دوران سوڈانی اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے)۔ اور یہی وہ چیز ہے جو اب ہو رہی ہے۔

 

سوڈان بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے مسائل کا حل ان زہریلے حلوں اور علاجوں میں نہیں ہوگا جو استعماری ممالک یا ان کے تابع ممالک اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں، بلکہ حل اسلامِ عظیم کے عقیدے سے نکلنا چاہیے، جس نے تمام معاملات کو وحیِ الٰہی کے نصوص کی طرف لوٹانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً﴾

"پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں نزاع پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے" (سورۃ النساء:آیت 59

 

اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹنے کا تقاضا ہے کہ حکمرانی، سیاست، اقتدار اور زندگی کے تمام شعبوں کو اسلام کی بنیاد پر قائم کیا جائے، اور یہ صرف اسلامی ریاست یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے قیام سے ہی ممکن ہے، جس کے قیام کے لیے کام نہ کرنے والا گناہ گار ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: «وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» "اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت (کا طوق) نہ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا" (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔

 

 

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے ترجمان کے معاون

 

Last modified onجمعہ, 31 جولائی 2026 15:43

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک