بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)- 13/07/2026
صرف اللہ ﷻ کی نازل کردہ شریعت کا مکمل نفاذ ہی آزاد کشمیر کے مسلمانوں کے دکھوں اور شکایات کا مداوا کرنے کے قابل ہے۔
مظفرآباد: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے جمعرات (9 جولائی 2026) کو اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع کر دے گی۔ عیدگاہ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، جے اے اے سی (JAAC) کے بنیادی رکن عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ اگر 14 جولائی تک الائنس کے منشور کے مطابق مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ 15 جولائی سے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ شروع کریں گے... کشمیری نے پورے آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے عوام پر زور دیا کہ وہ 15 جولائی کے مارچ کی تیاریاں شروع کر دیں۔
روزنامہ ڈان https://www.dawn.com/news/2014281
کشمیر کے مسلمانوں کے مطالبات کا محور دو بڑے شعبے ہیں: فوری معاشی ریلیف اور طویل مدتی ساختی تبدیلیاں۔ یہ مطالبات پاکستان کے بیشتر مسلمان بھی اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ وہ انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، خوراک، کپڑے اور چھت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ انہیں تعلیم اور صحت کی انتہائی ناقص سہولیات میسر ہیں۔
حقیقت میں، پاکستان کا موجودہ معاشی نظام کشمیر یا پاکستان میں کسی بھی جگہ رہنے والے مسلمانوں کو معاشی خوشحالی اور مناسب انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) کبھی فراہم نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا معاشی نظام برطانوی نوآبادیات کی ایک وراثت بھی ہے اور ایک سرمایہ دارانہ نظام بھی ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی نظام نے یہاں کی آبادی کو اقتدار کے لیے دشمن تصور کیا، اور اس طرح پسماندہ علاقوں میں محرومی اور غربت کو یقینی بنایا۔ جہاں تک سرمایہ دارانہ نظام کا تعلق ہے، تو یہ دولت کو حکمرانوں اور بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرتکز کرتا ہے، جس سے ملک کی بیشتر آبادی کو ملکی دولت میں ان کے جائز حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
تاہم، اللہ ﷻ کے نازل کردہ قانونِ شریعت کے نفاذ کے دور میں، پورا برصغیرِ پاک و ہند ایک بڑی معاشی طاقت تھا۔ ششی تھرور اپنی کتاب "An Era of Darkness: The British Empire in India" میں لکھتے ہیں کہ "اٹھارویں صدی کے آغاز میں، جیسا کہ برطانوی معاشی مؤرخ اینگس میڈیسن نے ثابت کیا ہے، عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 23 فیصد تھا، جو کہ پورے یورپ کے مجموعی حصے جتنا بڑا تھا۔ (یہ 1700ء میں 27 فیصد تھا، جب مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے شاہی خزانے میں صرف ٹیکس کی آمدنی سے 100 ملین پاؤنڈ جمع ہوتے تھے۔) جس وقت انگریز ہندوستان سے روانہ ہوئے، یہ کم ہوتے ہوئے صرف 3 فیصد سے کچھ زیادہ رہ گیا تھا۔ اس کی وجہ سادہ تھی: ہندوستان پر برطانیہ کے فائدے کے لیے حکومت کی گئی۔ 200 سال تک برطانیہ کی ترقی کی مالی معاونت ہندوستان میں اس کی غارت گری اور لوٹ مار سے کی گئی۔"
یہ ان تمام مسلمانوں پر لازم ہے جو اپنے شرعی حقوق کی بحالی چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں موجودہ نوآبادیاتی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کا مطالبہ کریں۔ تمام مسلمانوں کو، بشمول وہ لوگ جو عسکری قوت اور تحفظ (اہلِ قوت و نصرہ) کے حامل ہیں، خلافتِ راشدہ کی شفیق سرپرستی میں اللہ ﷻ کے قانونِ شریعت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔
اللہ ﷻ کے اذن سے، دوسری خلافتِ راشدہ استعماری طاقتوں کے ظلم کا خاتمہ کرے گی، بالکل اسی طرح جیسے پہلی خلافتِ راشدہ نے رومیوں اور ایرانیوں کو شکست دی تھی
10 جولائی کو پاکستان کے وزیر اعظم نے X (ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا، "آج اپنے بھائی، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بات چیت ہوئی۔ ہم نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور حالیہ مہینوں میں حاصل ہونے والے امن کے ثمرات کے تحفظ کے لیے تحمل، بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔"
https://x.com/CMShehbaz/status/2075636669315985578
پاکستان کے حکمران مسلسل مذاکرات پر اصرار کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ ٹرمپ نے یہ کہہ دیا ہے کہ "جنگ بندی ختم ہو چکی ہے!۔" پاکستان کے حکمران اُنہی غداروں جیسی پست ذہنیت کے مالک ہیں جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں استعماری راج کے دور میں برطانوی قبضے کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ یہ حکمران استعمار سے بڑی کوئی طاقت نہیں دیکھتے، ان کی ایسی اطاعت و غلامی کرتے ہیں جیسے وہی انہیں رزق اور زندگی دینے والے ہوں۔ وہ اپنے آقاؤں کے حق میں ایسی باتیں بولیں گے، خواہ ان کے آقاؤں کو خود ایسا کہتے ہوئے جھجک محسوس ہو رہی ہو۔
یہ واضح ہے کہ استعمار کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔ پاکستان کے ان حکمرانوں کو ہٹایا جانا چاہیے اور ان کی جگہ ایک ایسی نئی قیادت لانی چاہیے جو دینِ اسلام کے عظیم الشان نظام پر پختہ و گہرا یقین اور وسیع شعور رکھتی ہو۔ اللہ ﷻ کے قوانینِ شریعت پر سختی سے کاربند رہنے ہی نے خلفائے راشدین (رضی اللہ عنہم) کو اپنے وقت کی بڑی طاقتوں، یعنی رومیوں اور ایرانیوں کو شکست دینے کے قابل بنایا تھا۔ یہ دوسری خلافتِ راشدہ ہی ہوگی جو مشرق و مغرب میں بڑی طاقتوں کے ظلم و جبرکا خاتمہ کرے گی، اللہ ﷻ، الرزاق، الحی اور القیوم کے اذن سے۔ { وَیَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَۖ قُلۡ عَسَىٰۤ أَن یَكُونَ قَرِیبࣰا }
مسلمانوں کی سرزمینوں میں موجود امریکی فوجی ڈھانچہ، جو ہمارے گھر میں سانپ ہے، کو ختم کرو!
تہران، ارنا (IRNA) – اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کے ذریعے اردن میں دشمن کے ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے... آئی آر جی سی نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکی دہشت گرد فوج نے اپنی جارحیت کا اعادہ کیا، تو دیگر امریکی اڈے بھی اس کی شدید گولہ باری سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ 9 جولائی 2026ء
IRNA https://en.irna.ir/news/86205026/Iranian-missiles-pound-enemy-command-and-control-center-in-West
امریکہ مسلمانوں کی سرزمینوں سے سمندروں کی دوری پر واقع ہے۔ وہ مسلم ممالک کے اندر موجود اپنے سفارت خانوں کے بھیس میں فوجی اڈوں اور جاسوسی چوکیوں کے بغیر مسلمانوں پر اپنے حملوں کو کبھی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ یہ امریکی سیکیورٹی ڈھانچہ ہمارے گھر میں ایک سانپ کی طرح ہے۔ غدار مسلمان حکمرانوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے اس سانپ کو اندر آنے دیا کہ یہ مسلمانوں کی سیکیورٹی کے لیے ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ امریکی سانپ صرف اس کے ایجنٹوں کے تخت و تاج کے تحفظ اور ایک کے بعد دوسرے مسلم ملک پر حملہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے۔
اس کینسر کو ختم کرنے کا شرعی فریضہ صرف ایران کی فوج پر نہیں، بلکہ مسلمانوں کی تمام افواج پر عائد ہوتا ہے۔ امریکہ کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا افسانہ محض ایک مسلم فوج نے ہی توڑ دیا ہے۔ لہٰذااب امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ اپنی تمام افواج کو فوری طور پر حکم دے تاکہ امریکی فوج کو اپنی سرزمینوں سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
فریب کار امریکیوں کے ساتھ معاہدوں کا متبادل، امت کی مسلح افواج کی جانب سے انہیں مسلمانوں کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے لیے جہاد ہے
امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد، پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے 8 جولائی 2026 کو ایک پریس بیان میں کہا، "خطے میں امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے مسلسل رابطوں، بات چیت اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ پاکستان تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت' (MoU) کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کریں، جو خطے اور اس سے باہر بھی باہمی افہام و تفہیم، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک پائیدار بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔"
Pakistan deeply concerned at escalation in regional tensions; calls for restraint: FO
اگرچہ ایران کی عسکری قیادت اپنی پالیسیوں میں خودمختار رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اسے سیاسی قیادت کے اندر موجود ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے؛ یہ دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب سیاسی مذاکرات کو برداشت کرنے کی مہلک غلطی کی گئی۔ اس سیاسی معاہدے نے امریکہ کو مزید حملوں کے لیے اپنی افواج کو اکٹھا کرنے کا وقت فراہم کیا، اور ساتھ ہی اس کے حامیوں کو ایران کا رخ بدلنے کا موقع بھی دیا۔ جہاں تک پاکستان کی قیادت کا تعلق ہے، تو وہ مسلمانوں اور اسلام کو پہنچنے والے نقصان کی پرواہ کیے بغیر امریکہ کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے مسلمان، ایران کے مسلمانوں کے لیے امت کے سب سے بڑے دشمن یعنی امریکہ کے خلاف کامیابی کی دعا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کے حکمران امریکی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ایران کا ساتھ دینے کا موقع ضائع کر رہے ہیں۔ مشترکہ دین، تاریخ اور جغرافیے کے پیشِ نظر ایران اور پاکستان کے مسلمانوں کا ایک ریاست کے طور پر متحد ہونا ایک فطری امر ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ 'دوسری خلافتِ راشدہ' کے قیام کے لیے جدوجہد کریں، جو امت کے لشکروں کو امریکی صلیبیوں اور ان کے پیشِ قدم فوجی اڈے یعنی یہودی وجود کے خلاف متحرک کر سکے۔
ایران کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خلافت قائم کریں تاکہ دھوکے باز امریکہ کو ذلت سے نکالا جا سکے
ایران کے نائب وزیرخارجہ نے امریکا کی تازہ فوجی جارحیت کو اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور ملی مفادات کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات انجام دے گا– تہران – ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے بدھ 8 جولائی کی صبح امریکی خلاف ورزی پر ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ " امریکا نے گزشتہ تین ہفتے میں مفاہمتی یاد داشت کی شق 1 اور 2 کی بارہا خلاف ورزی کی ہے۔
ایران پر امریکی حملہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کی کھلی خلاف ورزی ہے - IRNA Urdu
حزب التحریر نے 28 جون 2026 کے اپنے سوال و جواب میں واضح طور پر فوجی قیادت کو معاہدے کے حوالے سے متنبہ کیا ہے، "یہ انتہائی ضروری ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ٹرمپ کو وہ کچھ نہ دیا جائے جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا تھا، خصوصاً اس لئے کہ ایران کوئی چھوٹی سی یا کمزور ریاست نہیں ہے؛ ایران کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک کی جنگ کا بوجھ برداشت کر سکے، امریکہ کو شکست دے سکے اور اسے اس خطے سے اسی طرح ذلیل و خوار کر کے نکال باہر کرے جیسے 2021ء میں امریکہ کو افغانستان سے نکالا گیا تھا۔ تب جا کر ایران بالآخر اپنی پالیسی میں خود مختار ہو جائے گا، چنانچہ نہ وہ دوبارہ ایک گردش پذیر ریاست بنے گا اور نہ ہی ایک تابع ماتحت ریاست کی سطح تک گرے گا۔"
حزب التحریر نے بھی واضح ہدایت دی، "جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ امتِ اسلامیہ اس موجودہ ذلت کے بعد کہ جس میں وہ اب زندگی گزار رہی ہے، دوبارہ زندہ اور معزز کیسے ہو سکتی ہے؟ تو یہ معاملہ کوئی مبہم یا پوشیدہ نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ، القوی العزیز کی کتاب اور صادق وامین رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ میں بالکل واضح طور پر درج ہے کہ، مسلمانوں کی ایک ایسی خلافت ہو جو ان پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکومت کرے۔"
ایران کی مزاحمت کے بعد، امت کو امریکی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے موقع کو غنیمت جاننا چاہیے
وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نک نے منگل (7 جولائی 2026ء) کو بیان دیا کہ ایران کے مخالفین کی جانب سے عائد کردہ جامع پابندیاں اور دباؤ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے میں ناکام رہے، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے ملک کو دفاعی خود کفالت، پائیدار ڈیٹرنس (دفاعی صلاحیت) اور تزویراتی (اسٹریٹجک) قوت کی طرف گامزن کرنے میں مدد فراہم کی۔
[IRNA]
ایران کی عسکری قیادت کی اس مزاحمت کے نتیجے میں فوجی خود کفالت کی جانب اٹھائے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ تاہم، امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے کے اس عمل کو نہ تو صرف عسکری دائرہ کار تک محدود رہنا چاہیے اور نہ ہی صرف ایران تک۔ پوری امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اہل ایمان پر کفار کی بالادستی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، مسلم دنیا کے ہر خطے سے امریکی استعمار کے تمام عسکری، معاشی، سیاسی اور ثقافتی عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحرک ہو جائے۔ اس قسم کی ہمہ گیر اور جامع تبدیلی کا شرعی طریقہ کار خلافتِ راشدہ کا قیام ہے۔






