الخميس، 09 صَفر 1448| 2026/07/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)- 20/07/2026

 

 

ایندھن اللہ تعالیٰ کے شرعی قانون میں عوامی ملکیت ہے، اس کا فائدہ اور قیمت امت کے لیے ہے

پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے ہفتہ (17/07/2026) کو کہا کہ روزانہ ایندھن کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ متعارف کرانے سے مارکیٹ کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی، ونڈ فال کے فوائد کے مواقع ختم ہوں گے اور صارفین کے لیے زیادہ شفافیت اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنایا جائے گا۔

 

https://www.dawn.com/news/2016504/daily-fuel-price-adjustments-to-curb-market-abuse-ensure-fair-prices-petroleum-minister

 

کئی سالوں سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکستان کی صنعت کو مفلوج کر دیا ہے۔  فیکٹریوں سے منڈیوں تک تیار شدہ سامان کی نقل و حمل کی بھاری لاگت قیمتوں میں اضافے، بہت سے کارخانوں کے بند ہونے اور بیروزگاری میں اضافے کا سبب بنا ہے۔

 

پاکستان میں ایندھن کے بحران کا حل صرف اللہ کی شریعت فراہم کرتی ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلإِ وَالنَّارِ وَثَمَنُهُ حَرَامٌ» مسلمان تین چیزوں میں برابر کے شریک ہیں، پانی، چراگاہیں، اور آگ"۔ عربی، دین اور اس کے فقہ کی زبان میں آگ کا مطلب ایندھن ہے۔ لہٰذا، شریعت نے طے کیا کہ امت مسلمہ ایندھن پر مشترکہ ملکیت رکھتی ہے۔  انس رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا انہوں نے مزید کہا: «وَثَمَنُهُ حَرَامٌ»۔  ’’اور اس کی قیمت حرام ہے۔‘‘  چنانچہ شریعت نے طے کیا کہ امت ایندھن کی قیمت کے ساتھ ساتھ اس کے فائدے سے بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا يُمْنَعُ الْمَاءُ، وَالنَّارُ، وَالْكَلَأُ» "پانی، چراگاہ اور آگ کو الگ نہ کرو۔" لہٰذا شریعت نے ایندھن کی نجی ملکیت کے ساتھ ساتھ ریاستی ملکیت کو بھی حرام قرار دیا ہے، کیونکہ یہ امت مسلمہ سے ایندھن کی علیحدگی ہے۔

 

ایندھن کے متعلق شرعی حکم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ امت مسلم اپنے ایندھن کے وسیع ذرائع سے پوری مستفید ہو۔  خلافت ایندھن کے شعبے کی نگرانی ایک سرپرست کے طور پر کرے گی نہ کہ مالک کے طور پر۔  ایندھن کے شعبے سے حاصل ہونے والے منافع کو امت مسلمہ کی ضروریات پر خرچ کیا جائے گا، جس میں ایندھن کی دریافت، نکالنے، ریفائنری اور تقسیم میں سرمایہ کاری شامل ہے۔  خلافت کو ایندھن سے ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ناقابل تسخیر عوامی ملکیت ہے۔  اس طرح خلافت صنعت کو سستی قیمت پر ایندھن فراہم کرے گی، اس صنعت کی ترقی میں مدد کرے گی جو عالمی منڈیوں میں مسابقتی ہے۔

 

ایندھن سے متعلق شرعی حکم پر عمل درآمد کرنے کے بجائے، پاکستان کے حکمران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ پرائیویٹ کمپنیوں کی جیبیں بھرنے کے ساتھ ساتھ استعماری مالیاتی اداروں کو سود ادا کرنے کے لیے بڑھے ہوئے ٹیکس کا استعمال کر رہے ہیں۔  اس کے علاوہ، عسکری اور سیاسی قیادت یہ رائے قائم کر رہی ہے کہ ایندھن کا بحران اس لیے ہے کہ ایران امریکہ سے لڑ رہا ہے، تاکہ وہ امریکہ کے ایجنٹوں اور یہودی وجود کے محافظوں، خلیج کے حکمرانوں کے دفاع کے لیے مسلح افواج بھیج سکے۔  واضح طور پر پاکستان میں قیادت کا بحران فوجی بالادستی یا سویلین بالادستی سے حل نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کے شرعی قانون کی بالادستی سے حل ہو گا۔

 

پاکستان کے حکمران مسلم دنیا کے اند تباہ ہوتے ہوئے امریکی سیکورٹی ڈھانچے کو بچانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں

 نیوز رپورٹ

اسلام آباد/ ریاض، 17 جولائی (رائٹرز) - پانچ  باخبر ذرائع کے مطابق، پاکستان توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے بدلے کویت کے ساتھ ایک وسیع تر دفاعی معاہدے پر مذاکرات کر رہا ہے۔...کویت کا 2023 سے پاکستان کے ساتھ تربیت اور مشترکہ مشقوں کے لیے ایک محدود دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ ایک پاکستانی سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ کویت اب اسلام آباد کی جانب سے طاقت کا ایسا مظاہرہ چاہتا ہے جو سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے معاہدے جیسا ہو، جس میں "زمین پر ہزاروں پاکستانی فوجی، لڑاکا طیارے، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور دیگر دفاعی سہولیات" شامل ہوں۔

 

[https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-kuwait-discuss-expanded-defence-pact-sources-say-2026-07-17/](https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-kuwait-discuss-expanded-defence-pact-sources-say-2026-07-17/)

 

تبصرہ:

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (اسلامک ریولوشنری گارڈ کور) کی جانب سے امریکی فوجی ڈھانچے پر شدید حملوں نے نہ صرف نمایاں فوجی نقصانات پہنچائے ہیں۔ بلکہ ان حملوں نے ایک سیکورٹی خلا بھی پیدا کر دیا ہے، اور مسلم دنیا سے امریکی افواج کو انخلاء پر مجبور کرنے کا ایک موقع پیدا کیا ہے۔ اب اگر پاکستان کی مسلح افواج صرف ایران کو جوہری چھتری فراہم کر دیں، تو امریکہ پر انخلاء کے لیے دباؤ میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ مزید برآں، شریعت کے قوانین کی بنیاد پر موجودہ مسلم ریاستوں کے اتحاد کے بعد، پیدا ہونے والے اس سیکورٹی خلا کو ایک عظیم خلافتِ راشدہ کے ذریعے پُر کیا جانا چاہیے۔

 

تاہم، اس کے برعکس، پاکستان کے حکمران اپنے مشکل میں گھرے آقا کی مدد کر رہے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ مکمل طور پر تباہ  ہو جائے۔ وہ پہلے ہی حجاز میں مسلح افواج تعینات کر چکے ہیں اور اب کم از کم ایک وسیع تر تعیناتی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہ 'نئے مشرقِ وسطیٰ' کے امریکی منصوبے کو کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں مسلم ریاستیں ٹرمپ کے 'بورڈ آف پییس' (معاہدہِ امن) جیسے سیکورٹی معاہدے کریں، جس کے تحت بالآخر صیہونی وجود (یہودی ریاست) کو بھی شامل کر لیا جائے۔

 

آخر ریاستہائے متحدہ امریکہ، پاکستان کا کیا لگتا ہے کہ وہ اس قسم کی امداد کا مستحق ٹھہرے؟ امریکہ وہ احسان فراموش آقا ہے جو اربوں ڈالر کے نقصان اور لاکھوں مسلمانوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد بھی مسلسل "ڈو مور" (مزید کرو!) کا مطالبہ کرتے ہوئے ہمیشہ پاکستان سے مزید کا تقاضا کرتا ہے۔ امریکہ وہ غدار آقا ہے جو ہندو ریاست (بھارت) کو مکمل مدد فراہم کرتا ہے جبکہ وہ علاقائی عدم استحکام کی سازشیں رچاتی ہے۔

 

امریکہ وہ دھوکے باز آقا ہے جو پاکستان کی مسلح افواج کا استحصال کرتا ہے، اورمسلسل ان کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کو کمزور کرنے کی کوششیں کرتا رہتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے مسلمان اور ان کی مسلح افواج اللہ تعالیٰ ﷻ، اس کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کی خاطر کھڑے ہو جائیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا، تو پاکستان نئے امریکی سیکورٹی ڈھانچے کا ایک اہم ستون بن جائے گا، جو مسجدِ اقصی پر مستقل قبضے اور ایک کے بعد دوسری مسلم ریاست کو کمزور کرنے کو یقینی بناتا ہے۔ تاہم، اگر وہ اللہ تعالیٰ ﷻ کے اذن سے کھڑے ہو جاتے ہیں، تو پاکستان دوسری خلافتِ راشدہ کا نقطہِ آغاز اور اللہ تعالیٰ ﷻ کے دین کے غلبے کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

 

پاکستان کے حکمرانوں کے لیے اصل سرخ لکیر امریکی مفادات پر کوئی بھی حملہ ہے

”ہماری اعلیٰ ترین سول اور عسکری قیادت نے ایران کو اعلیٰ ترین سطح پر یہ پیغام پہنچایا ہے کہ سعودی عرب پر حملے پاکستان پر حملے ہیں،“ ایک پاکستانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا۔ ”یہ ہماری آخری حد (سرخ لکیر) ہے۔“

 

https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-worries-about-being-drawn-into-us-iran-conflict-after-houthis-attack-2026-07-16/

 

پاکستان کے حکمرانوں کی آخری حد (سرخ لکیر) نہ تو مسلمانوں پر کوئی حملہ ہے اور نہ ہی مساجدِ مقدسہ پر کوئی حملہ۔ اگر مسلمانوں پر حملے کوئی آخری حد ہوتے، تو وہ غزہ، شام، لبنان، یمن اور ایران کے لوگوں کی مدد کے لیے مسلح افواج بھیجتے۔ اگر مقاماتِ مقدسہ پر حملے کوئی سرخ لکیر ہوتے، تو وہ مسجد الاقصیٰ کو آزاد کرانے کے لیے مسلح افواج بھیجتے۔ پاکستان کے حکمرانوں کی اصلی آخری حد دنیا میں کہیں بھی، امریکی مفادات پر کوئی بھی حملہ ہے۔

دہائیوں سے پاکستان کے حکمرانوں کے ہاں امریکی مفادات کی خدمت کے لیے پاکستان کی صلاحیتوں کو سرنڈر (حوالے) کرنا ایک گہرائی تک سرایت کر جانے والا تصور رہا ہے۔ جب امریکہ نے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا، تو افغانستان کے مسلمانوں کے ساتھ متحد ہو کر امریکہ کو باہر نکالنے کے بجائے (جیسا کہ روس کے حملے کے وقت ہوا تھا)، پاکستان کے حکمرانوں نے اڈے، لاجسٹک سپورٹ اور انٹیلی جنس فراہم کر کے امریکہ کی مدد کی۔ جب امریکہ نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا اور پھر اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، تو پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ کو بچانے کے لیے مسلح افواج بھیجنے کی تیاریاں شروع کر دیں، یہاں تک کہ عوامی غم وغصے نے انہیں روک دیا۔ جب امریکہ نے 2019 میں یہ فیصلہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کو مشرق میں اس کے پٹھو(protégé)، یعنی ہندو ریاست کے حوالے کر دیا جائے، تو پاکستان کے حکمرانوں نے جہاد کو کشمیر سے غداری قراردے دیا۔ جب امریکہ نے 2023 میں مغرب میں اپنے پٹھو(protégé)، یعنی یہودی وجود کو غزہ کے خلاف حملوں میں اتارا، تو پاکستان کے حکمرانوں نے غزہ کی مدد کے لیے مسلح افواج بھیجنے کے عوامی مطالبے کو مسترد کر دیا۔ جب امریکہ نے 2026 میں ایران پر حملے شروع کیے، تو پاکستان کے حکمران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ایجنٹوں، یعنی حجاز کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔

 

کفار کے سامنے اس حد تک سر تسلیم خم کرنے کی عادت انتہائی ذلت آمیز ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کو لازمی طور پر اپنی مسلح افواج سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ موجودہ حکمرانوں کو ہٹائیں اور اس غدارانہ ذلت کو ختم کرنے کے لیے منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے نصرت (Nussrah - عسکری مدد) فراہم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ ”اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ ہی غم کرو، اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔“ [ آل عمران: 139]۔

 

گن بوٹ ڈپلومیسی (Gunboat Diplomacy) کے حربے کا مقابلہ کرنے کے لیے امت کا متحد ہونا لازمی ہے

 15 جولائی 2026 کو CNBC نے رپورٹ کیا کہ، "صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران ملاقات کرنا اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے 12 گھنٹوں میں دوسری بار ایرانی اہداف پر حملے کیے ہیں... ٹرمپ نے کہا، 'وہ برے لوگ ہیں، لیکن وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔'"

 

https://www.cnbc.com/2026/07/15/trump-iran-hormuz-strikes-power-plants-targeted.html

 

تبصرہ:

اگرچہ ایران کی عسکری قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ ٹرمپ نے آنے والے کانگریسی انتخابات کی وجہ سے فوجی کارروائیوں کو کافی حد تک محدود کر دیا ہے، لیکن گن بوٹ ڈپلومیسی (gunboat diplomacy) کا استعمال کرتے ہوئے ایران کوآہستہ آہستہ کمزور کرنےاور دباؤ ڈالنے کے لیے چھوٹی جھڑپیں مسلسل جاری رکھی ہوئی ہیں۔

 

 گن بوٹ ڈپلومیسی مغربی طاقتوں کی بحری قوت کے واضح مظاہروں کی مدد سے خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے، جس کے ذریعے جنگ کی براہ راست دھمکی دی جاتی ہے، اگر شرائط مغربی قوت کے لیے قابلِ قبول نہ ہوں۔ یہ حربہ 19ویں صدی میں، "براہِ راست نوآبادیاتی حکمرانی" (direct colonialism) کے دور میں شروع ہوا تھا اور "نئے نو آبادیاتی نظام" (neocolonialism) کے موجودہ دور میں بھی جاری ہے۔ امریکہ نے فی الحال یہ حربہ اپنایا ہوا ہے، وہ جنگوں، خانہ جنگیوں اور ذلت آمیز معاہدوں کے ذریعے تمام مسلم ریاستوں کی صلاحیتوں کو کمزور کر کے کسی بھی مسلم ریاست کی آزادی کو روکنے کی اپنی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

 

امریکہ کی اس خطرناک حکمتِ عملی کے سامنے، ایران کی عسکری قیادت کا ردعمل انتہائی محدود ہے کیونکہ یہ قومیت (nationalism) اور فرقہ پرستی (sectarianism) سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔ اسے باقی مسلم دنیا کے لیےاسلامی عقیدہ کو آئین، قوانین، پالیسیوں اور موقف کی بنیاد بناتے ہوئے مکمل طور پر اپنانا چاہیے۔ اسے صرف ایک ایسے آئین کے نفاذ کی راہ ہموار کرنی چاہیے جو قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی سے اخذ کیا گیا ہو۔ یہ صرف خلافت ہی ہے جو مسلم دنیا کو ایک ہی امام کے تحت متحد کر سکتی ہے، امریکی فوجی ڈھانچے کو ختم کر سکتی ہے اور شریعت کی بنیاد پر ایک نیا علاقائی نظام قائم کر سکتی ہے۔

 

حزب التحریرنے امام خمینی کے وقت سے ایران کی قیادت کو اسلامی ریاست کے لیے ایک مسودہ دستور پیش کر رکھا ہے۔ حزب التحریر پوری مسلم دنیا میں موجود ہے اور وہ ایک ہی امام کے تحت اسلامی امت کے عملی اتحاد کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب ایران کی عسکری قیادت پر فرض ہے کہ وہ نبوت کے طریقے پر دوسری خلافت راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنی نصرت فراہم کر کے اس کا جواب دے؛ کیونکہ صرف وہی امت کو توحید کے جھنڈے تلے متحد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور صرف وہی متکبر امریکہ کو شکست دینے کی اہل ہے، بالکل اسی طرح جیسے مسلمانوں نے کبھی فارس اور روم کی سلطنتوں کو شکست دی تھی۔

 

مسلمانوں کی سرزمینوں سے تمام امریکی اڈوں کے بائیکاٹ اور اخراج کے مطالبے کے لیے آواز بلند کریں!

14 جولائی 2026 کو، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایکس (X) پر پوسٹ کیا:"پاکستان گزشتہ رات برادر ملک مملکتِ سعودی عرب کے خلاف کیے گئے کھلے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔"

 

https://x.com/CMShehbaz/status/2076976508409909551

 

تبصرہ

ٹرمپ کا غلام، شہباز شریف، ایک طرف مسلمان ملک ایران اور دوسری طرف امریکہ اور مغرب کے پروردہ، یہودی وجود کے مابین تنازع کی حقیقت کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔

 

ایران کی عسکری قیادت نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے اندر قائم صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ خلیج کے حکمران دراصل یہودی وجود کے محافظ ہیں، جو اسلامی سرزمین پر امریکی اڈوں کی اجازت دے کر اور انہیں پانی، خوراک، توانائی اور ہتھیاروں کی فراہمی کو یقینی بنا کر امتِ مسلمہ کی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

 

تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کی سرزمینوں سے تمام امریکی فوجی اڈوں کے بائیکاٹ اور ان کے فوری اخراج کا مطالبہ کریں۔ یہ اڈے، جلد یا بدیر، تمام مسلم ریاستوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ تمام مسلم افواج کو حرکت میں آنا چاہیے تاکہ امریکہ کو پسپائی پر مجبور کیا جا سکے، ایران کے مسلمانوں پر حملوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور دیگر مسلم ممالک پر حملوں کا سدِباب کیا جا سکے۔

 

اُمت کی تعمیر کی اساس سنتِ نبوی ﷺ ہونی چاہیے، نہ کہ کفار پر تکیہ و انحصار

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور خطے کے دیگر ممالک پر ایرانی حملوں کے حوالے سے E3 (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کی جانب سے 12 جولائی 2026 کو ایک مشترکہ بیان شائع کیا گیا، جس میں کہا گیا: "ہم آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور خطے کے ممالک بشمول قطر، کویت، بحرین، عمان اور اردن پر ایران کے غیر ذمہ دارانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔"

 

https://www.gov.uk/government/news/e3-statement-on-iranian-attacks

 

ایران کے مسلمانوں کے بارے یورپ کا رویہ بعینہٖ وہی ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا ہے۔ یورپ ایران کے خلاف معاندانہ روش اپنائے ہوئے ہے، حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ منافع بخش خلیجی خطے سے یورپی اثر و رسوخ کا خاتمہ کر رہا ہیں اور گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے جو نایاب زمینی عناصر (Rare Earth Elements) کے ذخائر کے لحاظ سے عالمی سطح پر آٹھویں نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی میں تمام کفار ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ دہائیوں سے، روس اور چین سمیت کافراستعماری طاقتوں نے مسلم ریاستوں کو مکمل اقتصادی اور عسکری خودمختاری کے حصول سے روکنے کے لیے ہر قسم کے معاہدوں اور سمجھوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ کفار کے ساتھ اتحاد دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب کا باعث بنتا ہے۔

 

ایسے میں ایران کے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے حکمران اب تک یہ کیسے تصور کیے بیٹھے ہیں کہ کافر طاقتوں کے ساتھ مراسم استوار کرنا مسلمانوں کی قوت کی تعمیر کا راستہ ہے؟ مسلمان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعتِ مطہرہ سے انحراف کر کے، مغربی قومی ریاست کے نظم (Western nation-state order) اور سرمایہ دارانہ نظام کے کفر پر مبنی قوانین کی بنیاد پر طے پانے والے معاہدوں کے ذریعے کیسے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟ آخر کیسے؟!

 

رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی تاسیس کے لیے رومیوں اور ایرانیوں پر کبھی تکیہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ امتِ مسلمہ کی پہلی اور بہترین نسل نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر کامل توکل کیا، اور ساتھ ہی ان وسائل کو شرعی احکامات کے مطابق استعمال کیا جن سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نوازا تھا۔ چنانچہ، خلافتِ راشدہ عالمی منظر نامے پر ایک عظیم الشان قوت بن کر ابھری اور اس نے قلیل عرصے میں ایران اور روم کی سلطنتوں کو پے در پے شکستِ فاش سے دوچار کیا۔ ہر وہ قیادت جو امتِ مسلمہ کی رہنمائی کی حقدار ہے، وہ کفار کے ساتھ اتحاد و مصلحت پسندی کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی شریعت کے کامل و جامع نفاذ پر اصرار کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا﴾ "اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست (اور سرپرست) نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کے پاس ایک واضح حجت فراہم کر دو؟" [سورہ النساء: 144]

 

 

امریکہ کو پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے اُمتِ مسلمہ کو اپنی افواج کا رخ موڑنا ہوگا

11 جولائی 2026 کو، امریکی سینٹکام (CENTCOM) نے اعلان کیا: "امریکی سنٹرل کمانڈ نے 11 جولائی کو ایران کے خلاف اس ہفتے حملوں کا تیسرا دور مکمل کیا، جس میں ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی جہاز پر حملہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔"

 

https://www.centcom.mil/MEDIA/PUBLIC-RELEASES/Article/4540919/us-forces-finish-latest-round-of-strikes-against-iran/

 

پچھلی کئی دہائیوں سے، دشمن باری باری ایک ایک کر کے مسلم ممالک پر حملے کر رہے ہیں، جبکہ باقی اسلامی ممالک تماشائی بنے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ دشمن ایک کے بعد دوسری مسلم ریاست پر حملہ کرتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں کی طاقتور افواج کے ذریعے انہیں آسانی سے مستقل پسپائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

 

امتِ مسلمہ ایک امت ہے اور اس کے کسی بھی حصے پر حملہ، اس پوری امت پر حملہ ہے۔ حملہ آور دشمن سے لڑنے کا اللہ ﷻ کا حکم امتِ محمدی ﷺ سے خطاب ہے، نہ کہ کسی مخصوص مسلم ریاست یا قوم سے۔ اللہ ﷻ نے فرمایا: ﴿ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴾ "پس جو کوئی تم پر زیادتی کرے، تو تم بھی اس پر اسی طرح کارروائی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ اللہ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے۔" [سورہ البقرہ: 194]

 

ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ مسلح افواج میں موجود اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ کرے اور ان سے مطالبہ کرے کہ وہ اللہ ﷻ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق خلافت کے قیام کے لیے اپنی فوجی نصرت (مدد) فراہم کریں، تاکہ انہیں اللہ ﷻ کی راہ میں جہاد کے لیے متحرک کیا جا سکے اور ذلت و رسوائی کے ان سیاہ ابواب کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔

 

 

 

Last modified onبدھ, 22 جولائی 2026 15:28

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک