×

خبردار

JUser: :_load: نہیں کرسکتا to load user with id: 586

الجمعة، 03 رمضان 1447| 2026/02/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

خروج اور حزب التحریر کا منہج

خروج  اور حزب التحریر کا منہج

آج کے دور میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ اُمّت مسلمہ ایک بہت ہی کھٹن مرحلے سے گزر رہی ہے، اس پر ظا لم حکمران مسّلط ہیں، جو کہ اُن پر ایسے نظام نا فذ کررہے ہیں، جو کہ سر سرا سر کفر پر مبنی ہیں۔ ایسے میں امّت میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے کہ کس طرح ان دونوں سے چھٹکارا پایا جائے۔ اسی مقصد کو حا صل کرنے کے لیے امّت میں سے ہی کچھ آوازیں بلند ہوئیں جنھوں نے ان حکمرانوں اور ان نظاموں کو ہٹانے کے بارے میں مختلف آرا ء دیں۔

عراقی حکومت کی نااہلی کی اصل وجہ سرمایہ دارانہ نظام اور قابض کفار کی اطاعت و وفاداری ہے

عراقی حکومت کی نااہلی کی اصل وجہ سرمایہ دارانہ نظام اور قابض کفار کی اطاعت و وفاداری ہے

چند دن قبل عراقی حکومت کا قابض کافر امریکی انتظامیہ کی اطاعت کرنے کے خلاف لوگوں کا ایک گروہ بغداد میں سڑکوں پر نکل آیا۔ یونیورسٹی کے طلبہ اور پڑھے لکھے معززین حکومت کی دھوکہ پر مبنی پالیسیوں کے خلاف نکلے ۔ یہ وہ پالیسیاں ہیں جو لوگوں کی خواہشات اور مفادات کا استحصال کرتی ہیں لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا تھا اگر کچھ دنیا دار علماء نے فتوے نہ دے رکھے ہوتے جو اس حکومت کے حق میں بیانات دیتے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر راضی کرتے ہیں کہ وہ اس حکومت کو ووٹ دیں تا کے اسے قانونی حیثیت حاصل ہو اور ان لوگوں کے ذریعے عوام کو بےوقوف بنایا جائے جو امریکی ٹینکوں پر بیٹھ کر آئے ہیں۔

افغان" امن" مذاکرات

راحیل-نواز حکومت افغانستان میں امریکی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لئے

افغان "امن" مذاکرات میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کر رہی ہے

راحیل-نواز حکومت امریکی ہدایت پر افغان "امن" مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن فوجی و سیاسی دباؤ استعمال کر رہی ہے۔ افغان "امن" مذاکرات کا مقصد کابل میں قائم امریکی کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم کروانا اور 30 ستمبر 2014 کو امریکہ اور کٹھ پتلی افغان حکومت کے درمیان طے پانے والے دوطرفہ سیکیوریٹی معاہدے کو ایک وسیع سیاسی و قانونی حمایت فراہم کرنا ہے جس کے تحت امریکہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں اپنی افواج کو افغان فوج کو تربیت فراہم کرنے اور "دہشت گردی" روکنے کے نام پر رکھ سکے گا۔

اے مسلم افواج! ہمارا صلاح الدین کہاں ہے جو فلسطین میں قتل کیے گئے بچوں کا انتقام لے؟!

اے مسلم افواج! ہمارا صلاح الدین کہاں ہے جو فلسطین میں قتل کیے گئے بچوں کا انتقام لے؟!

31 جولائی جمعہ کی صبح سویرے یہودی دہشت گردوں نے فلسطین کے مغربی کنارے کے گاوں دوما میں دو گھروں میں دستی بم پھینکے جس سےاٹھارہ ماہ کا علی سعد دوابشہ جل کر ہلاک ہو گیا۔ اس حملے میں علی کے والدین اور چار سالہ بھائی بھی جل کر شدید زخمی ہوگئے۔ پھر دہشت گردوں نے انہی گھروں کی دیواروں پر عبرانی زبان میں "انتقام" اور " قیمت" لکھا۔ اس شر انگیز عمل نے نوجوان محمد ابو خضیر کے قتل کا ہولناک منظر ذہنوں میں تازہ کر دیا؛ جب گزشتہ سال جولائی میں یہودی دہشت گردوں نے ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر قتل کیا تھا۔

Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک