الإثنين، 12 شوال 1447| 2026/03/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

بین الاقوامی قانون کا خاتمہ اور عالمی تبدیلیاں

 

 

تحریر: استاد ممتاز ماوراء النہری

 

(ترجمہ)

 

بین الاقوامی قانون کی جڑیں سترہویں صدی کے وسط تک جاتی ہیں۔ یورپی ممالک نے آپس کے تعلقات کو منظم کرنا شروع کیا اور 1648 میں 'معاہدہ ویسٹ فیلیا' پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون کو قانونی حیثیت دینے کا آغاز تھا جس نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے ممالک کو متاثر کیا۔ اس طرح یورپ کی مسیحی ریاستوں نے اپنے درمیان عشروں سے جاری جنگیں بند کر دیں اور اپنی مشترکہ طاقت کا رخ خلافتِ عثمانیہ کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔

 

1815 میں منعقدہ ویانا کانفرنس میں فرانسیسی انقلابی جنگوں سے پیدا ہونے والے کئی مسائل پر بحث کی گئی، اور اس کانفرنس کا اختتام براعظم یورپ کی سرحدوں کے تعین پر ہوا۔ لیکن استعماری طاقتیں ان سرحدوں پر راضی نہ ہوئیں جو ان کے درمیان تقسیم کی گئی تھیں، چنانچہ پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ اس جنگ میں جرمنی کے گرد متحد ہونے والے ممالک کو شکست ہوئی، جبکہ جیتنے والے فریق یعنی برطانیہ، فرانس اور روس کے حصے میں بڑا مالِ غنیمت آیا۔ 1919 میں پیرس کانفرنس منعقد ہوئی اور اس کے بعد 'لیگ آف نیشنز' (League of Nations) کا قیام عمل میں آیا۔

 

اس طرح بین الاقوامی قانونِ عامہ تشکیل پایا اور یہ امن و جنگ دونوں حالتوں میں ریاستوں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے والا قانون بن گیا۔ لیگ آف نیشنز کو ریاستوں پر بالادستی دی گئی تھی اور وہ برطانیہ کی خدمت کر رہی تھی جو اس وقت دنیا کی پہلی بڑی طاقت تھی۔ تاہم پہلی جنگ عظیم میں شکست خوردہ فریق نے جنگ کی آگ دوبارہ بھڑکائی اور 1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ اس جنگ میں امریکہ ایک نئی عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا اور اس نے مداخلت کرتے ہوئے جاپان پر ایٹمی ہتھیار گرائے۔ نتیجے کے طور پر 'تین فریقی اتحاد' کو شکست ہوئی اور بین الاقوامی قانون کی ایک بار پھر نئی تشکیل کی گئی۔ یعنی اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا اور امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین جیسے جنگ جیتنے والے ممالک سلامتی کونسل کے ذریعے اس کا انتظام چلانے لگے۔

 

جیسا کہ اس سے واضح ہے، بین الاقوامی قانون بنانے والے یا تو وہ بڑے ممالک ہیں جنہوں نے جنگوں میں فتح حاصل کی، یا وہ بڑی طاقتیں ہیں جو اپنی قوت برابر ہونے کی صورت میں یہ محسوس کرتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو شکست نہیں دے سکتیں، چنانچہ وہ اپنے تعلقات کو منظم کرنے کے لیے آپس میں معاہدے کرتی ہیں، ان پر دستخط کرتی ہیں اور پھر اسے بین الاقوامی قانون قرار دے دیتی ہیں۔ لہٰذا، اگر یہی بڑی طاقتیں خود بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف کارروائی کرنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے، سوائے اس کے کہ انہیں دنیا کے ممالک کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

مثال کے طور پر، 2003 میں امریکہ کا عراق پر حملہ بین الاقوامی قانون کی ایک بہت بڑی خلاف ورزی تھی۔ برطانیہ سمیت کئی بڑی طاقتوں نے امریکہ کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں حصہ لیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ نے عالمی رائے عامہ کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ 2014 میں روس کا کریمیا پر قبضہ اور پھر 2022 میں امریکہ کی اکساہٹ پر پیوٹن کا یوکرین پر حملہ ایک اور بڑا واقعہ تھا جس نے بین الاقوامی قانون کو پیروں تلے روند ڈالا۔

 

جہاں تک امریکہ کے پروردہ 'کیانِ یہود' کا تعلق ہے، اس نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر جنگ مسلط کر دی، اس کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس صورتحال نے نام نہاد بین الاقوامی قانون کی مکمل تباہی کو واضح کر دیا۔ خاص طور پر ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر بننے کے ساتھ ہی یہ بات عیاں ہو گئی کہ اب بین الاقوامی قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ اس نے عالمی رائے عامہ یا بڑی طاقتوں کی پرواہ کیے بغیر ایک فوجی آپریشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر مادورو کو اغوا کر لیا۔ وہ یہیں نہیں رکا، بلکہ اس نے گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا، اور شمالی امریکہ کے متعدد ممالک اور ان کے رہنماؤں پر بین الاقوامی جرائم کا الزام بھی عائد کیا۔

 

پھر ٹرمپ نے "امن کونسل" کے قیام کا اعلان کیا اور اس کا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ یہ اس وقت ہوا جب امریکہ 66 بین الاقوامی تنظیموں سے نکل گیا جن میں سے تقریباً نصف کا تعلق اقوام متحدہ سے تھا۔ ٹرمپ نے خود کو اس کونسل کا مستقل صدر مقرر کیا اور اس کے فیصلوں کی توثیق کا اختیار صرف اپنے پاس رکھا۔ اس نے نہ تو پہلے سے موجود بین الاقوامی ڈھانچے کی طرف کوئی توجہ دی اور نہ ہی امریکہ کے علاوہ دنیا کی دیگر بڑی طاقتوں کو خاطر میں لایا۔

 

اس کونسل کو اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کے متبادل ادارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا ڈھانچہ اور ووٹنگ کا نظام نیا ہے، اور یہ موجودہ عالمی نظام کے بالکل متوازی ایک راستہ تشکیل دیتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس کے لیے دس ارب ڈالر مختص کیے گئے، اور اس کے زیرِ اثر ممالک کو مزید دس ارب ڈالر ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ موجودہ بین الاقوامی نظام کو ختم کر کے ایک 'یک قطبی' نظام قائم کرنا چاہتا ہے جس میں وہ واحد حکم چلانے والی اور فیصلہ کن قوت ہو۔ اس طرح اس نے واضح کر دیا کہ وہ بین الاقوامی کثیر القطبی نظام (Multipolarity) کو قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی ایسی کسی بین الاقوامی قوت کو برداشت کرنا چاہتا ہے جو عالمی نظام پر اس کے غلبے کا مقابلہ کر سکے۔

 

اس تکبر اور بڑائی کے احساس نے ٹرمپ کے لیے ایران پر دوبارہ بمباری کا راستہ کھول دیا ہے۔ وہ اسی پر نہیں رکا، بلکہ وہ اپنے پروردہ 'یہودی وجود' (اسرائیل) کے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے وہاں نظام کی تبدیلی کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں، اس کا مقصد ایران کے علاقائی کردار کو محدود کرنا اور اسے ایک ایسی تابع ریاست میں بدلنا ہے جو یہودی وجود کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔

 

چنانچہ آج بین الاقوامی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی جاری ہے، اور توقع ہے کہ آنے والے مرحلے میں بڑی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ مزید شدت اختیار کر جائے گی۔ خاص طور پر جب بین الاقوامی معاہدوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے، تو ہر بڑی طاقت اپنے مخصوص دائرہ کار میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔

 

ایسے حالات میں اس اسلام کی ضرورت بڑھ گئی ہے جسے تمام انسانیت کے لیے ہدایت اور نور بنا کر نازل کیا گیا، اور اس ریاستِ خلافت کی ضرورت بھی جو اسے عملی زندگی میں نافذ کرے۔ یہ (خلافت) اس بند گلی سے نکلنے کے لیے موثر حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں آج دنیا پہنچ چکی ہے، اور روئے زمین کے تمام انسانوں کے لیے ایک قابلِ قبول تہذیبی اور قانونی مرجع بن سکتی ہے۔

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

 

"اور اس دن اہلِ ایمان اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے؛ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہی زبردست (اور) نہایت رحم والا ہے" (سورۃ الروم:  آیات  4 - 5 )

Last modified onپیر, 30 مارچ 2026 05:35

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک