الإثنين، 12 شوال 1447| 2026/03/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مشترکہ عرب فورس: امت کی ڈھال یا امریکہ کی خدمت؟

                                                                                        

 

 تحریر: استاد سعد سمیر

 

(ترجمہ)

 

خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور صورتحال کو ازسرنو ترتیب دینے کے لیے بین الاقوامی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ ہی، مصری حکومت نے عرب مشترکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے اور نام نہاد "خطرات" کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ عرب فورس کی تشکیل کی کوششوں پر زور دیا ہے۔

 

ایک ایسے وقت میں جب اسلامی ممالک استعمار کی بھڑکائی ہوئی جنگوں کی آگ میں جل رہے ہیں اور یہودی وجود فلسطین میں ہمارے لوگوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی وہی گمراہی کا پرانا راگ الاپنے کے لیے سامنے آئے ہیں، اور مشترکہ عرب دفاعی معاہدے کو فعال کرنے اور مشترکہ عرب فورس بنانے کی دہائی دے رہے ہیں۔ یہ پکار، اپنی حقیقت اور وقت کے لحاظ سے، ایک نئے سیاسی جال کے سوا کچھ نہیں جس کا مقصد امت پر سیکیورٹی کی گرفت مضبوط کرنا اور مشترکہ عرب اتحاد کی آڑ میں ان بوسیدہ حکومتوں کی بنیادوں کو سہارا دینا ہے۔

 

مشترکہ عرب دفاع کا یہ معاہدہ اپنی منظوری کے وقت سے ہی جان بوجھ کر معطل رکھا گیا ہے، کیونکہ اسے امت کے ہاتھ میں ایک ہتھیار بنانے کے لیے تیار ہی نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اسے ایک ایسے سیاسی ماحول میں وضع کیا گیا تھا جہاں عرب ممالک کو بین الاقوامی نظام کے تحت محض ایک فعال پرزے کے طور پر چلایا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ معاہدہ کبھی فلسطین کی آزادی یا مسلم ممالک پر جاری جارحیت کو روکنے کے لیے حرکت میں نہیں آیا، بلکہ یہ سرد خانے کی نذر رہا اور اسے صرف اس وقت نکالا جاتا ہے جب امریکہ کے وژن کے مطابق خطے کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

 

آج اس معاہدے کو ایک واضح بین الاقوامی تناظر میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے جہاں امریکہ تنازعات میں اپنی براہ راست مداخلت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے مشترکہ عرب فورس کی بات کو اس رجحان سے الگ نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ سیکیورٹی کے حوالے سے خطے کی نئی انجینئرنگ کا حصہ ہے، تاکہ عرب افواج کو ایک ایسی عالمی حکمت عملی کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے جو نہ تو امت کی مرضی کی عکاس ہو اور نہ ہی اس کے مفادات کی تکمیل کر سکے۔

 

اس پکار کا جواز پیش کرنے والا سرکاری بیانیہ علاقائی خطرات کی بات کرتا ہے اور ایران کے ساتھ کشیدگی یا افراتفری اور عدم استحکام کے خطرات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تاہم، یہ بیانیہ جان بوجھ کر اس حقیقی اور براہ راست خطرے کو نظر انداز کرتا ہے جس کا سامنا امت گزشتہ سات دہائیوں سے کر رہی ہے، یعنی وہ یہودی وجود جس نے فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے اور امریکہ و مغرب کی مکمل حمایت سے جارحیت کی بدترین شکلیں اپنائے ہوئے ہے۔

 

تو پھر اس فورس سے کن خطرات کا مقابلہ کرنے کی توقع ہے، اگر اس کا نشانہ یہ غاصب وجود نہیں ہے؟! اور اس کی موجودگی، بلکہ اس کے تحفظ اور سرحدوں کی حفاظت کی موجودگی میں کون سا امن حاصل کرنا مقصود ہے؟! سیکیورٹی اور دفاع کی گفتگو سے مسئلہ فلسطین کو مکمل طور پر نکال دینا کوئی بھول چوک نہیں ہے، بلکہ یہ ان حکومتوں کی فطرت کا اظہار ہے جو اب اس وجود کو دشمن نہیں بلکہ براہ راست امریکی نگرانی میں چلنے والے علاقائی انتظامات میں ایک شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہیں۔

 

وہ خطرات جن کا عبد العاطی ذکر کر رہے ہیں اور جن کے مقابلے کے لیے وہ متحرک ہیں، دراصل سائیکس پیکو (معاہدے) کا تحفظ ہے تاکہ کسی بھی ایسی مخلص عوامی تحریک کو روکا جا سکے جو ان مصنوعی سرحدوں کو توڑنے اور امت کو خلافت کے جھنڈے تلے متحد کرنے کی کوشش کرے۔ اس کا مقصد ایک ایسی سرحد پار فوجی جابرانہ قوت تشکیل دے کر امت کی آزادی کی امنگوں کا گلا گھونٹنا ہے، جو استعمار کے اثر و رسوخ کو اکھاڑ پھینکنے والی کسی بھی تحریک کو دبانے کے لیے مداخلت کر سکے۔

 

مصری حکومت ایک حقیقی خودمختار ریاست کے طور پر نہیں بلکہ امریکہ کی قیادت میں چلنے والے ایک علاقائی نظام کے اندر اپنا (مخصوص) کردار ادا کرنے والے فریق کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی، سفارتی سرگرمیاں اور یہاں تک کہ اس کی سیکیورٹی ترجیحات بھی اسی نظام کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں، نہ کہ اسلامی عقیدے کے تقاضوں یا امت کے مفادات کے مطابق۔

 

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ یہ وہی نظام ہے جس کے یہودی وجود کے ساتھ سیکیورٹی معاہدات اور مفاہمتیں ہیں، جو سرحدوں کی نگرانی میں حصہ لیتا ہے، اور اہل غزہ کے محاصرے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، جس کی وجہ سے ایک ایسی "دفاعی قوت" کی بات کرنا جو اس وجود کو نشانہ نہ بنائے بلکہ اسے تحفظ فراہم کرنے والے ماحول میں کام کرے، انتہائی خطرناک معاملہ ہے۔

 

مصری حکومت امریکہ کی ایک فرمانبردار خادم اور اس کے منصوبوں کی وفادار عملدار ہے۔ مشترکہ فورس کی تشکیل کی یہ پکار اس کی اپنی ایجاد نہیں بلکہ امریکہ کے ایما پر ہے تاکہ وہ اپنی افواج کے کندھوں سے بوجھ کم کر سکے اور ان کٹھ پتلی حکومتوں کو فوجی وکالت کی ذمہ داری سونپ سکے۔

 

"عرب قومی سلامتی" اور "مشترکہ فورس" پر مبنی یہ سوچ ان قوم پرست اور وطنی نظریات سے جنم لیتی ہے جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں اور ہر ریاست کو اپنے الگ مفادات اور حساب کتاب تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ اسلام امت کو ایک ایسی وحدت کے طور پر دیکھتا ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا، اور مسلم علاقوں کے تحفظ اور مظلوموں کی مدد کو ایک ایسا شرعی فریضہ قرار دیتا ہے جو تنگ نظر سیاسی مفادات کا پابند نہیں ہے۔ پس اسلام میں طاقت محض ایک فوجی آلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عقیدے سے پھوٹنے والے سیاسی ارادے کا اظہار ہے جو دوست اور دشمن کا تعین کرتا ہے، اور اسلحے کا رخ اس طرف موڑتا ہے جو مقابلے کا مستحق ہے، نہ کہ اس کی طرف جسے خوش کرنا یا راضی رکھنا مقصود ہو۔ اسی بنا پر، جو قوت اس عقیدے سے نہیں نکلتی اور اس بنیاد پر کھڑی نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ ایک مفلوج قوت رہے گی، جسے وہیں استعمال کیا جائے گا جہاں امریکہ چاہے گا اور وہاں معطل کر دیا جائے گا جہاں اسے حرکت کرنی چاہیے۔

 

اس راستے پر چلنے سے امن قائم نہیں ہوگا بلکہ غلامی میں مزید اضافہ ہوگا، اور امت کی افواج ایسے تنازعات کا ایندھن بن جائیں گی جو امت کے مفاد میں نہیں ہیں، بلکہ ہو سکتا ہے کہ انہیں خود امت کو دبانے، اس کی تحریکوں کو روکنے، یا ان حکومتوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے جو اپنی ساکھ کھو چکی ہیں۔ مزید یہ کہ یہ راستہ انتشار کی کیفیت کو برقرار رکھتا ہے اور ایک ایسی جامع سیاسی ریاست کے قیام کی راہ روکتا ہے جو امت کو متحد کرے، اس کا مقام اسے واپس دلائے، اس کے فیصلے آزاد کرے اور اس کی طاقت کو محض دکھاوے کی نہیں بلکہ ایک حقیقی قوت بنا دے۔

 

اے اہل مصر (کنانہ): آپ ایک ایسی عظیم امت کے قلب میں بستے ہیں جو ایک دائمی پیغام کی حامل ہے، اور یہ آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ ان منصوبوں کا حصہ بنیں جو آپ کی مرضی کے بغیر باہر سے چلائے جا رہے ہوں، یا یہ کہ آپ کے بیٹوں کو ان پالیسیوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے جو آپ کے عقیدے کی ترجمان نہیں ہیں۔ آپ پر واجب ہے کہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ آپ کے ملک کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، اور اسے دوسروں کے ہاتھ کا کھلونا بننے کے بجائے امت کے دل کے طور پر اس کا فطری کردار واپس دلانے کے لیے کام کریں۔

 

اے مصر کے سپاہیو: جس قوت کا وزیر اور اس کا نظام مطالبہ کر رہے ہیں وہ ایسی قوت ہے جس کا مقصد علاقائی سلامتی کے نام پر آپ کو امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کرائے کے سپاہیوں میں تبدیل کرنا ہے۔ آپ کے فوجی رینک آپ کے لیے باعث فخر نہیں اگر وہ کیمپ ڈیوڈ کی خدمت میں وقف ہوں، اور آپ کا اسلحہ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کا رخ ان اللہ کے دشمنوں کے سینوں کی طرف ہو جنہوں نے آپ کے نبی ﷺ کی جائے معراج پر قبضہ کر رکھا ہے۔ آپ کا اصل کردار اپنی امت کا ساتھ دینا اور خلافت کے قیام کے لیے کام کرنے والوں کو نصرت فراہم کرنا ہے، تاکہ آپ صحیح معنوں میں بیت المقدس کو آزاد کروانے والے زمین کے بہترین سپاہی بن سکیں، نہ کہ غاصبوں کی سرحدوں کے چوکیدار۔

 

آج امتِ مسلمہ ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے، اور یہ کٹھ پتلی حکومتیں اپنی زہریلی پیشکشوں سے اسے نجات نہیں دلا سکتیں۔ نجات صرف منہجِ نبوت پر قائم خلافتِ راشدہ میں ہے، جو افواج کو متحد کرتی ہے، سرحدوں کو پاش پاش کرتی ہے اور ملکوں کو استعمار کی گندگی اور اس کے اثرات سے پاک کر دیتی ہے۔

 

ولایہ مصر  میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

Last modified onپیر, 30 مارچ 2026 05:43

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک